بھارت میں ’ہنگلش‘ کی اجازت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 اکتوبر 2011 ,‭ 11:51 GMT 16:51 PST
فائل فوٹو

ہندی زبان میں غیر مقبول سخت الفاظ کا استعمال ہوتا ہے

بھارت میں وزارتِ داخلہ نے سرکاری کام کاج میں آسان زبان کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ہندی کے مراسلوں میں انگریزی اور اردو کے عام فہم الفاظ استعمال کرنے کی اجازت دیدی ہے۔

اب سرکاری ملازمین بغیر کسی خوف و خطر عام بول چال میں استعمال کیے جانے والے انگریزی اور دوسری علاقائی اور ’غیر ملکی’ زبانوں کے الفاظ استعمال کرسکیں گے لیکن انہیں یہ الفاظ دیوناگری رسم الخط میں ہی لکھنے ہوں گے۔

سرکاری کام کاج میں انتہائی مشکل ہندی استعمال کی جاتی ہے جسے سمجھنا عام طور پر لوگوں کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بہت سے انگریزی الفاظ کے لیے ہندی کے آسان متبادل موجود نہیں ہیں۔

تو سرکاری ملازمین کس طرف کے الفاظ استعمال کرسکیں گے؟

وزارت داخلہ میں محکمہ سرکاری زبان کی سیکریٹری وینا اپادھیائے کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک سرکیولر میں کچھ مثالیں پیش کی گئی ہیں جیسے انگریزی کے الفاظ اویئرنیس (بیداری) ریگولر، ڈی فاریسٹیشن( جنگلات کی کٹائی) پروگرام، رین فاریسٹ ہارویسٹنگ اور ہائر ایجوکیشن، ٹکٹ، سگنل، لفٹ، سٹیشن، پولیس، بٹن۔۔۔ اور فارسی اور عربی کے عدالت، قانون، مقدمہ، کاغذ، دفتر وغیرہ۔

"جب بھی سرکاری کام کاج میں ہندی میں ترجمہ کیاجاتا ہے، زبان بہت پیچیدہ اور مشکل ہوجاتی ہے۔ اس لیے انگریزی سے ہندی کے ترجمے کے طریقے میں تبدیلی کی سخت ضرورت ہے۔ لفظ بہ لفظ ترجمہ کرنے کے بجائے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اصل متن کامطلب بیان کیا جائے۔"

سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ مشکل زبان کے استعمال سے لوگوں کی دلچسپی کم ہوجاتی ہے اس لیے ان کی دلچسپی کو قائم رکھنے کے لیے یہ تبدیلی ضروری ہے۔

’جب بھی سرکاری کام کاج میں ہندی میں ترجمہ کیاجاتا ہے، زبان بہت پیچیدہ اور مشکل ہوجاتی ہے۔ اس لیے انگریزی سے ہندی کے ترجمے کے طریقے میں تبدیلی کی سخت ضرورت ہے۔ لفظ بہ لفظ ترجمہ کرنے کے بجائے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اصل متن کامطلب بیان کیا جائے۔’

وزارت کے مطابق’ کسی بھی زبان کی دو شکلیں ہوتی ہیں، ادبی اور کام کاج کی۔ سرکاری مراسلوں میں اردو، انگریزی اور دوسری علاقائی زبانوں کے استعمال کو فروغ دیا جانا چاہیے‘۔

ہندوستان میں آزادی کے کافی بعد تک پولیس تھانوں اور عدالتوں میں تمام کارروائی اردو میں ہوتی تھی جس کا رسم الخط تو اب دیوناگری ہوگیا ہے لیکن فارسی اور اردو کے الفاظ کا بڑے پیمانے پر استعمال اب بھی عام ہے۔

ملک کے کئی سینئر وفاقی وزرا کا ہندی میں دامن تنگ ہے کیونکہ ان کا تعلق جنوبی ہندوستان سے ہے جہاں دوسری علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں۔

وزیر دفاع اے کے اینٹنی، وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا اور خود وزیر داخلہ پی چدمبرم صرف انگریزی میں ہی بات کرتے ہیں جبکہ وزیر خزانہ پرنب مکھرجی، جن کا تعلق مغربی بنگال سے ہے، یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ ہندی بولتے وقت کبھی کبھی وہ کہنا کچھ چاہتے ہیں اور کہہ کچھ اور جاتے ہیں۔ کیمیاجات کے وفاقی وزیر اڑاگری، جن کا تعلق تمل ناڈو سے ہے، نہ انگریزی بولتے ہیں اور نہ ہندی۔

بھارت میں ہندی کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے لیکن آئین میں انگریزی کو بھی سرکاری کام کاج کی زبان کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اگرچہ عام تاثر یہ ہے کہ ہندی قومی زبان ہے لیکن گجرات ہائی کورٹ نے گزشتہ برس اپنےایک فیصلےمیں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے۔

"وزیر دفاع اے کے اینٹنی، وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا اور خود وزیر داخلہ پی چدمبرم صرف انگریزی میں ہی بات کرتے ہیں جبکہ وزیر خزانہ پرنب مکھرجی، جن کا تعلق مغربی بنگال سے ہے، یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ ہندی بولتے وقت کبھی کبھی وہ کہنا کچھ چاہتے ہیں اور کہہ کچھ اور جاتے ہیں۔ کیمیاجات کے وفاقی وزیر اڑاگری، جن کا تعلق تمل ناڈو سے ہے، نہ انگریزی بولتے ہیں اور نہ ہندی۔"

آئین ساز کمیٹی کے سامنے اس کی ایک ذیلی کمیٹی نے یہ سفارش رکھی تھی کہ ’ہندوستانی زبان، جسے شہریوں کو اپنی مرضی کے مطابق دیوناگری یا فارسی رسم الخط میں لکھنے کی اجازت ہوگی، قومی زبان کی حیثیت سے وفاق کی پہلی سرکاری زبان ہوگی۔ انگریزی دوسری سرکاری زبان ہوگی اور اس کی مدت کا تعین وفاق کی جانب سے قانون سازی کے ذریعہ کیا جائے گا‘۔ لیکن اس تجویز پر عمل نہیں ہوا۔

وزارت داخلہ کے سرکیولر میں آسان ہندی کے استعمال کے لیے اب تک کی جانے والی کوششوں کی تفصیل بھی شامل ہے۔ مارچ انیس سو چھہتر میں یہ ہدایت جاری کی گئی تھی کہ’یہ کافی نہیں کہ لکھنے والا اپنی بات خود سمجھ سکے کہ اس نے کیا لکھا ہے، ضروری تو یہ ہے کہ پڑھنے والے کو سمجھ میں آجائے کہ لکھنےوالا کیا کہنا چاہتا ہے‘۔

اور جب سرکاری ملازمین اس ملی جلی زبان کا استعمال کریں گے تو ان کے جملے کسے ہوں گے، وینا اپادھیائے کے سرکیولر میں اس کی بھی ایک جھلک پیش کی گئی ہے۔’اس پراجیکٹ کا مقصد صاف تٹوں(ساحلوں) کی اہمیت کو لے کر اوئر نیس پھیلانا ہے اور اس کے انترگت( اس کے اندر) کیمپس کے آس پاس کا ایک بڑا ایریا آتا ہے‘۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔