کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے: انا ہزارے

اننا ہزارے
Image caption اننا ہزارے نے کہا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے

بد عنوانی کے خلاف تحریک کے علمبردار انا ہزارے نے کہا ہے کہ ان کی تحریک کے رکن پرشانت بھوشن نے کشمیر سے متعلق جو بیان دیا ہے وہ ان کے ذاتی خیالات ہیں اور ار کا ان کی تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

پرشانت بھوشن نے چند دنوں قبل ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ان کے خیال میں کشمیر میں رائے شماری کرائی جا نی چاہیے۔

اس بیان کے بعد بعض افراد نے سپریم کورٹ کے احاطے میں واقع ان کے چیمبر میں حملہ کیا تھا ۔

انا ہزارے نے کہا کہ ان کی تحریک بھارت کی سالمیت اور اقتدار اعلی میں مکمل یقین رکھتی ہے۔ 'ہم کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ حصہ مانتے ہیں اور رائے شماری کی بات غلط ہے ۔‘

بعد میں انا کے ساتھی اروند کیجریوال نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ کشمیر کے سوال پر اختلافات کے باوجود پرشانت بھوشن ان کی تحریک کاحصہ بنے رہیں گے ۔'پرشانت نے حقوق انسانی ، ماحولیات اور دوسرے شعبوں میں ملک کی بے پناہ خدمت کی ہے اور وہ بد عنوانی کے خلاف تحریک میں گرانقدر ذمےداری نبھا رہے ہین ۔ وہ ہماری تحریک کا اٹوٹ حصہ ہیں۔'

مسٹر کیجریوال نے بھی اس موقف کا اعادہ کیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور ان کی تحریک کا یہ موقف ہے کہ ' اس مسلے کو پر امن طریقے سے مزاکرات کے ذریعے ملک کے آئین کے دائرے میں حل کیا جانا چاہئیے۔' لیکن اس وقت تحریک کی ساری توجہ صرف لوک پالپر مرکوو ہے ۔

مسٹر کیجریوال نے گزشتہ دو دنوں میں پرشانت بھوشن اور پٹیالہ کورٹ کے باہر ان کے حامیوں پر کیے گئے حملے کے بارے میں شک کا اظہار کیا ہے ۔ انہون نے کہا کہ حملہ آور باقاعدہ ویب سائٹ پرپیشگی اعلان کرکے حملے کر رہے تھے اور پولیس کو پتہ تھا لیکن اس نے حملے سےپہلے انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی اور حملے کے وقت خاموش تماشائی بنے رہے ۔

مسٹر کیجریوال نے کہا ہے کہ جس طرح یہ حملے کیے گئے ہیں ' ایسا لگتا ہے کہ یہ کشمیر کو بہانہ بنا کر لوک پال کے سوال سے عوام کی توجہ ہٹانے اور تحریک میں بھوٹ ڈالنے کی کوئی سازش ہے '۔

مسٹر کیجریوال نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی سچائی سامنے لائے ۔

اسی بارے میں