کشمیر: فرقہ وارانہ تشدد کے بعد ہڑتال

کشمیر کشیدگی( فائل فوٹو)
Image caption کشیدگی ایک ٹیچر کے بعض متنازعہ بیان کے سبب پھیلی ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے جنوب مشرقی ضلع ڈوڈہ میں ہندو اور مسلم گروہوں کے مابین پرتشدد تصادم کے بعد جمعہ کے روز پورے ضلعے میں ہڑتال کی جارہی ہے۔

فرقہ وارانہ تصادم کے دوران چار نوجوان شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

علاقے میں کشیدگی سنیچر کو اس وقت پھیلی جب ضلع میں بھدرواہ قصبہ کےمقامی کالج میں تاریخ کی ایک معلمہ بی اے سکینڈ ائر کے طلبہ کو اسلامی تاریخ سے متعلق درس دے رہی تھیں۔

کلاس میں موجود ایک طالبہ عُظمیٰ احمد نے بتایا کہ ’وہ ہمیں سراج الدولہ کی مذہبی پالیسی سے متعلق تاریخ کا ایک باب پڑھا رہی تھیں۔ اس میں ہندؤں اور مسلمانوں کا ذکر ہے۔ ایک لڑکے نے سوال کیا کہ ہندو کون لوگ ہیں؟ اس پر میڈم نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں توہین آمیز باتیں کہیں۔‘

درس میں موجود طلبا کا کہنا ہے کہ مذکورہ لیکچرار کے خلاف پرنسپل اقبال زرگر کو تحریری درخواست دی گئی لیکن انہوں نے اس پر غور نہیں کیا۔

طلبا نے جب کالج احاطے میں مظاہرے کئے تو بھدرواہ کی انجمن اسلامیہ کے کارکن بھی کالج میں داخل ہوگئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے حمایتی گروپوں سے تعلق رکھنے والے ہندو نوجوان بھی کالج پہنچے اور اس دوران شاہد نامی ایک طالب علم کے سر پر تیز دھار والے ہتھیار سے حملہ کیا گیا۔ جب تصادم شدید ہوگئے تو پولیس نے ہوا میں فائرنگ کی اور متحارب گروہوں کو منتشر کردیا۔

ضلعی کمشنر فاروق احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعہ کی عدالتی تفتیش کا حکم دیا گیا ہے اور جمعے کے روز گواہوں کے بیانات بھی قلمبند کئے۔ لیکن طلبا کا مطالبہ ہے کہ مذکورہ استانی کو کالج سے تبدیل کیا جائے۔

کالج کے ایک طالب علم نے بتایا ’وہ ہر وقت مسلم طلبا کے ساتھ اُلجھتی ہیں۔ انہوں ایک طالب علم کی داڑھی پر بھی اعتراض کیا تھا۔ اگر یہ یہاں رہیں گی تو اس کا اثر ہمارے امتحانی نتائج پر پڑھے گا۔‘

کالج پرنسپل اقبال زرگر نے بتایا کہ جس استانی کی باتوں پر مسلم طلبا برہم ہیں، وہ داصل عارضی بنیادوں پر تعینات کی گئی ہیں اور صرف ڈیڑھ ماہ قبل کالج میں آئی ہیں۔

سنیچر کی شام مظاہرین نے بھدرواہ ، ڈوڈہ اور کشتواڑ کے بعض مقامات پر مظاہرے کئے اور انجمن اسلامیہ نے مساجد کے لاؤڈ سپیکروں سے ہڑتال کی اپیل کی۔

کشیدگی کو دیکھتے ہوئے ضلع میں پولیس کی گشت بڑھا دی گئی ہے اور بھدرواہ سے تعلق رکھنے والے بھارتی وزیر غلام نبی آزاد بھی علاقہ کا دورہ کررہے ہیں۔

قابل ذکر ہے ڈوڈہ ضلع جموں خطے کا حصہ ہے اور یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ بھدرواہ قصبہ میں کل آبادی کا چالیس فی صد ہندوؤں پر مشتمل ہے۔

اسی بارے میں