گجرات: سنجیو بھٹ کو ضمانت مل گئی

آخری وقت اشاعت:  پير 17 اکتوبر 2011 ,‭ 10:07 GMT 15:07 PST
سنجیو بھٹ

سنجیو بھٹ گزشتہ اٹھارہ دنوں سے عدالتی تحویل میں تھے

بھارت کی ریاست گجرات میں وزیراعلٰی نریندر مودی کے خلاف بیان دینے والے پولیس افسرسنجیو بھٹ کی ضمانت کی درخواست کو عدالت نے منظور کر لیا ہے۔

وہ گزشتہ اٹھارہ دنوں سے عدالتی تحویل میں تھے اور پیر کی صبح سماعت کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا ہے۔

انہیں اپنے ایک ماتحت پولیس اہلکار کو جھوٹا بیان دینے کے لیے مجبور کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ لیکن سول سوسائٹی کے کارکنان اور اپوزیشن جماعتیں اسے مودی حکومت کی انتقامی کارروائی قرار دیتی رہی ہیں۔

عدالت کے فیصلے کے بعد سنجیو بھٹ کے وکیل اقبال سیّد نے کہا ہے کہ ان پر بعض ایسی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جن میں ضمانت نہیں ملتی لیکن ’جس نوعیت کا یہ کیس تھا اس میں ان سیکشن کا اطلاق نہیں ہوتا ہے اور اگر کیس کو صحیح بھی مان لیا جائے تو بھی وہ قابل ضمانت ہے اس لیے عدالت نے ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ان تمام لوگوں کو اطمینان ہوا ہے جو گزشتہ تقریبا تین ہفتوں سے کوششیں کر رہے تھے۔

اس سے پہلے سنیچر کو اقبال سید نے اپنی دلیل مکمل کر لی تھی اور عدالت سے کہا تھا کہ چونکہ ان کے موکل ایک سینئر پولیس افسر اور سرکاری ملازم ہیں اس لیے ان کے فرار ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ کیس دستاویزی ثبوتوں کا ہے جس میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جا سکتی اس لیے انہیں ضمانت پر رہا کیا جانا چاہیے۔

سرکاری وکیل نے انہیں رہا کرنے کی مخالفت کی تھی تاہم ان کے دلائل پیر کو مکمل ہو سکے۔ مسٹر بھٹ تیس ستمبر سے جیل میں تھے۔

"جس نوعیت کا یہ کیس تھا اس میں ان سیکشن کا اطلاق نہیں ہوتا ہے اور اگر کیس کو صحیح بھی مان لیا جائے تو بھی وہ قابل ضمانت ہے اس لیے عدالت نے ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔"

ریاستی حکومت نے یہ کہہ کر ضمانت کی مخالفت کی تھی کہ چونکہ پولیس نے مسٹر بھٹ کو تحویل میں لینے کے لیے ایک دیگر عدالت میں عرضی داخل کی ہے اس لیے ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ ہونے تک ان کی درخواست پر غور نہ کیا جائے۔

اس دوران احمد آباد کی ایک ديگر سیشن عدالت نے مسٹر بھٹ کو ریمانڈ میں دینے کی پولیس کی درخواست کی سماعت 10 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔ مسٹر بھٹ کو 30 ستمبر کو گرفتار کیے جانے کے بعد پولیس نے انہیں سات دن کے لیے پولیس کی تحویل میں دینے کی درخواست کی تھی لیکن مجسٹریٹ نے انہیں عدالتی تحویل میں دے دیا تھا۔ پولیس نے مجسٹریٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔

اعلی پولیس افسر سنجیو بھٹ نے سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے ایک بیان حلفی میں الزام لگایا ہے کہ مسٹر مودی نے 2002 کے فسادات کے دوران اعلٰی افسروں سے کہا تھا کہ وہ ہندوؤوں کو مسلمانوں کے خلاف اپنا غصہ نکالنے دیں اور انہیں نہ روکیں۔ مسٹر مودی نے اس کی تردید کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔