بھارت، اقتصادی ترقی کی رفتار سست رہےگی

پرنب مکھرجی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیرخزانہ کے مطابق عالمی سطح پر مندی کا اثر بھارت پر بھی پڑ رہا ہے

بھارت کے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نےکہا ہے کہ عالمی سطح پر مالی بحران کی وجہ سے ملک میں اقتصادی ترقی کی رفتار حکومت کے تخمینوں سے کم رہے گی لیکن دسمبر کے بعد سے مہنگائی کم ہونا شروع ہوجائے گی۔

دلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرنب مکھرجی نے کہا کہ’ ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ترقی کی رفتار آٹھ فیصد سے کم رہے گی، یہ بہت افسوس کی بات ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا بھر میں مندی کا رحجان ہے۔‘

رواں مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے تقریباً نو فیصد کی رفتار سے اقتصادی ترقی کا ہدف رکھا تھا لیکن اس کے بعد سے عالمی اقتصادی صورتحال کافی بدل چکی ہے۔ گزشتہ برس بھارتی معیشت نے ساڑھے آٹھ فیصد کی رفتار سے ترقی کی تھی۔

پرنب مکھرجی نے کہا کہ ’ ہم بین الاقوامی مسائل سے محفوظ نہیں ہیں۔ اور اگر ترقی کی رفتار آٹھ فیصد بھی رہتی ہے تو یہ بہت خوشی کی بات ہوگی۔‘

لیکن بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور بھارت میں اقتصادی ماہرین کا خیال ہے موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے آٹھ فیصد کی رفتار حاصل کرنا بھی ممکن نظر نہیں آتا۔

اقتصادی امور پر وزارت خزانہ کے سینئر مشیر کوشک بسو نے منگل کو کہا تھا کہ ’دنیا بھر میں مندی کا رحجان ہے۔ ہماری معیشت ساڑھے سات سے آٹھ فیصد کے درمیان بڑھےگی۔‘

بہرحال، روال مالی سال کے پہلے تین مہینوں میں ترقی کی رفتار صرف سات اعشاریہ سات فیصد رہی جو گزشتہ ڈیڑھ سال میں سب سے کم تھی۔ لہذا، ماہرین کے مطابق اگر کوشک بسو کا ساڑھے سات فیصد کا تخمینہ درست ثابت ہوتا ہے تو رواں مالی سال کے باقی مہینوں میں ترقی کی رفتار اور سست ہوجائے گی ۔

ملک میں مہنگائی بھی بے قابو ہے اور حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود افراط زر دس فیصد کے قریب ہے حالانکہ ریزرو بینک اسے تقریباً ساڑھے چار فیصد کے قریب رکھنا چاہتا ہے۔

مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مارچ دو ہزار دس سے اب تک ریزرو بینک نے بارہ مرتبہ سود کی شرح میں اضافہ کیا ہے اور ایک سروے کے مطابق زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے پچیس اکتوبر کو سود کی شرح میں ایک مربتہ پھر اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

پرنب مکھرجی نے کہا کہ’ میرے خیال میں افراط زر میں دسمبر سے کمی ہونا شروع ہوجائے گی اور مجھے امید ہے کہ مارچ تک یہ شرح سات فیصد ہو جائے گی۔‘

لیکن سود کی اونچی شرح سے صنعتی پیداوار شدید طور پر متاثر ہورہی ہے کیونکہ قرض لینا مہنگا ہو جانے کی وجہ سے مانگ متاثر ہورہی ہے۔ اس کا اثر سب سے واضح طور پر گاڑیوں کی صنعت میں نظر آرہا ہے جہاں گاڑیوں کی فروخت صرف دو سے چار فیصد کے درمیان ہی بڑھنے کی امید ظاہر کی جارہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات اگر برقرار رہتے ہیں، اور تیل کی قیمتیں کم نہیں ہوتیں’ تو بھارت کا مالی خسارہ یعنی آمدنی اور خرچ کے درمیان فرق پانچ اعشاریہ چھ فیصد تک پہنچ سکتا ہے جبکہ حکومت کا ہدف چار اعشاریہ چھ فیصد کا ہے۔¬

اسی بارے میں