ووٹ کے بدلے نوٹ، امر سنگھ کی ضمانت

امر سنگھ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امر سنگھ کی بیماری کا خيال کرتے ہوئے عدالت نے ضمانت دی ہے

دلی ہائی کورٹ نے رقم کے بدلے ووٹ کے معاملے میں گرفتار سماجوادی پارٹی کے سابق سیکریٹری امر سنگھ کی ضمانت انسانی بنیادوں پر منظور کر لی ہے۔

وہ کافی دنوں سے ہسپتال میں ہی زیراعلاج ہیں۔

عدالت نے دو افراد کی جانب سے ایک کروڑ روپے کے مچلکے پر انہیں ضمانت دی ہے۔

لیکن ضمانت کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ دلی سے باہر نہیں جائیں گے۔

عدالت نے کہا ہے کہ وہ اپنا پاسپورٹ ذیلی عدالت میں جمع کردیں اور اگر انہیں ملک سے باہر جانا ہو تو ذیلی عدالت سے رجوع کریں۔

امر سنگھ نے اپنے گردے کا آپریشن سنگا پور میں کروایا تھا اور اطلاعات کے مطابق وہ چیک اپ کے لیے دوبارہ سنگاپور جانا چاہتے تھے۔

نوٹ کے بدلے ووٹ کے معاملے میں دلی کی پولیس نے اپنی جو رپورٹ عدالت میں پیش کی ہے اس کے مطابق امر سنگھ اس میں ایک ملزم ہیں۔

اسی سلسلے میں انہیں پہلےگرفتار کیا گيا گيا تھا لیکن صحت خراب ہونے کے سبب عدالت نے انہیں عارضی طور پر ضمانت دے دی تھی۔

بعد میں عدالت نے اس عارضی ضمانت کو بھی منسوخ کر دیا تھا اور انہیں گرفتار کر لیا گيا تھا لیکن زیادہ تر وقت ان کا ہسپتال میں ہی گزرا ہے۔

اسی معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ رہنما لال کرشن اڈوانی کے ایک قریبی ساتھی سدھیندر کلکرنی کو بھی گرفتار کیا گيا تھا جو ابھی جیل میں ہی ہیں ہے۔ بی جے پی کے دو سابق رکن پارلیمان پہلے ہی سے جیل میں ہیں جنہیں ابھی تک ضمانت نہیں ملی ہے۔

پارلیمان میں کیش کا معاملہ سنہ دو ہزار آٹھ کا ہے جب اجلاس کے دوران بعض ارکان نے سپیکر کے سامنے بھاری رقم یہ کہہ کر پیش کی تھی کہ انہیں ووٹ کے لیے رشوت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

الزام یہ ہے کہ سماجوادی پارٹی کے سابق رہنماء امر سنگھ نے بی جے پی کے اراکینِ پارلیمان کو خریدنے کی کوشش کی تھی۔

بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ اس کے اراکینِ پارلیمان بدعنوانی کا پردہ فاش کر رہے تھے اور اسی لیے امر سنگھ سے ملنے والے ایک کروڑ روپے لے کر لوک سبھا میں پہنچے تھے۔

لیکن پولیس کا دعویٰ ہے کہ رشوت لے کر اراکینِ پارلیمان نے بھی جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ حزبِ اختلاف کا الزام ہے کہ پردہ فاش کرنے والوں کو تو نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن ووٹوں کی خرید و فروخت سے فائدہ اٹھانے والوں (کانگریس) کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

یہ معاملہ اب بھی پر اسرار بنا ہوا ہے اور ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ رشوت کا پیسہ کس نے دیا تھا۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ایک ٹی وی چینل نے رشوت ستانی کے اس معاملے کی خفیہ ریکارڈنگ کی تھی۔ لیکن اس واقعے کے کچھ ہی دنوں بعد یہ پس منظر میں چلا گيا۔

اسی بارے میں