بھارت میں سود کی شرح میں پھر اضافہ ہوا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت میں مہنگائی ایک بڑا مسئلہ ہے

بھارت کے مرکزی بینک نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ایک بار پھر سود کی شرح میں اضافہ کیا ہے۔ گزشتہ مارچ سے اب تک کا یہ تیرہواں اضافہ ہے۔

ریزرو بینک آف انڈیا نے سود کی شرح آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد سے بڑھاکر اپنی کلیدی شرح آٹھ آعشاریہ پچیس کر دیا ہے۔ گزشتہ دس ماہ میں بینک نے تیرہویں بار یہ اضافہ کیا ہے۔

بینک نے معاشی ترقی کی رفتار میں بھی اپنے تخمینے میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ اس کے مطابق چونکہ عالمی سطح پر کساد بازاری کا ماحول ہے اس لیے بھارتی معیشت کی ترقی کی رفتار سات اعشاریہ چھ رہنے کی توقع ہے۔

بھارت میں رواں سال معاشی ترقی کی رفتار آٹھ فیصد رہنے کی پیشین گوئی کی گئي تھی۔

بینک کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چونکہ بھارتی معیشت دنیا کی معیشتوں سے مربوط ہے اس لیے عالمی سطح پر سست روی کا اثر بھارت کی گھریلو معیشت پر بھی پڑیگا، خاص طور پر صنعتی ترقی پر اثر ہوگا۔

بھارت میں اس وقت مہنگائي کا بول بالا ہے اور افراط زر کی شرح مستقل نو اور دس فیصد کے درمیان ہی برقرار ہیں۔ اسی پر قابو پانے کے لیے سود کی شرح میں اضافہ کیا جا تا رہا ہے۔

مہنگائی کا معاملہ جہاں ملک میں گرم سیاسی بحث کا حصہ ہے وہیں یہ ملک کی معیشت پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔

ریزرو بینک آف انڈیا کی تمام کوششوں کے باوجود مہنگائی میں کمی نہیں آئی ہے۔ بینک کے بیان کے مطابق بڑی تشویش یہ ہے کہ ترقی کی رفتار میں کمی کے نمایاں آثار ہونے کے باوجود افراط زر کی شرح جوں کی توں برقرار ہے۔

بینک کا کہنا ہے آنے والے دنوں میں عام اشیاء کی قیمتیں کم نہیں ہوں گی۔ ’مہنگائی بڑے پیمانے پر ہے اور ریزرو بینک کے مطمئن ہونے کی سطح سے کہیں اوپر ہے، اس سطح کے آئندہ دو ماہ تک برقرار رہنے کی توقع ہے۔‘

گزشتہ ہفتے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے کہا تھا کہ فراط زر میں دسمبر سے کمی ہونا شروع ہوجائے گی اور انہیں امید ہے کہ مارچ تک یہ شرح سات فیصد ہو جائے گی۔

لیکن سود کی اونچی شرح سے صنعتی پیداوار شدید طور پر متاثر ہورہی ہے کیونکہ قرض لینا مہنگا ہو جانے کی وجہ سے مانگ متاثر ہورہی ہے۔

اس کا اثر سب سے واضح طور پر گاڑیوں کی صنعت میں نظر آرہا ہے جہاں گاڑیوں کی فروخت صرف دو سے چار فیصد کے درمیان ہی بڑھنے کی امید ظاہر کی جارہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات اگر برقرار رہتے ہیں، اور تیل کی قیمتیں کم نہیں ہوتیں’ تو بھارت کا مالی خسارہ یعنی آمدنی اور خرچ کے درمیان فرق پانچ اعشاریہ چھ فیصد تک پہنچ سکتا ہے جبکہ حکومت کا ہدف چار اعشاریہ چھ فیصد کا ہے۔

اسی بارے میں