کشمیر میں دھماکہ، تین بھارتی فوجی زخمی

Image caption سری نگر میں دو مقامات پر گرینیڈ پھینکےگئے ہیں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح عسکریت پسندوں نے ایک سکیورٹی پوسٹ پر گرینیڈ سے حملہ کیا ہے جس میں تین فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ حملہ دارالحکومت سری نگر کے تجارتی مرکز لال چوک میں واقع سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی ایک پوسٹ پر کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق اس حملے میں سی آڑ پی ایف کے تین جوان زحمی ہوئے ہیں۔

دوسرا دھماکہ لال چوک سے تقریبا ایک کلو میٹر کے فاصلے پر ہوا ہے لیکن اس میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں معمول کی زندگی بحال ہوگئی ہے۔

ایک سینیئر پولیس پولیس افسر اے جی میر نے بتایا '' یہ ملٹینسی کے کم بچے رہنے کی طرف ایک اشاہ ہے لیکن ہم انہیں کھوج نکالیں گے۔''

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ پانچ برسوں میں شدت پسندی میں کافی حد تک کمی دیکھی گئی ہے۔ اس برس بھارت کے مختلف مقامات سے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بھی وادی پہنچی ہے۔

ریاست کے وزیر اعلی عمر عبداللہ سمیت بہت سے مقامی رہنما کمشیر میں نافذ خظرناک قسم کے '' آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ'' سمیت سخت سکیورٹی قوانین کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے کہا تھا کہ اب ان قوانین کی ضرورت نہیں جب بیس برس قبل عسکریت پسندی کو دبانے کے لیے نافذ کیے گئے تھے۔

لیکن بھارتی فوج اس بات پر مصر ہے کہ کشمیر میں اب بھی سرحد پار سے دراندازی جاری ہے اور ملٹینسی سے مقابلے کے لیے ایسے قوانین ضروری ہیں۔

اسی بارے میں