’عمرعبداللہ کو دو ہفتوں کی مہلت‘

عمر عبداللہ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عمر پر الزام ہے کہ انہوں نے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں سیاسی کارکن کی پراسرار ہلاکت کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے اعلیٰ سطح کی تفتیش کے لیے عمر عبداللہ کی حکومت کو دو ہفتوں کا وقت دیا ہے۔

اکسٹھ سالہ سّید محمد یوسف نامی سیاسی کارکن کی مبینہ طور پولیس حراست میں ہلاکت کئی ہفتوں تک سیاسی تنازعہ کا باعث بنی رہی ہے۔

اس معاملہ سے متعلق وزیراعلیٰ عمرعبدللہ نے عدالتی تفتیش کا یقین دلایا تھا، لیکن مقامی چیف جسٹس نے کسی حاضر جج کی خدمات فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ بعد میں انہوں نے بھارتی وزارت داخلہ سے کہا کہ سپریم کورٹ کے کسی ریٹائرڑ جج کو اس معاملہ کی تفتیش کے لئے تعینات کیا جائے۔

نئی دلّی سے اس تجویز کا جواب آنے سے پہلے ہی بھارتی سپریم کورٹ نے آج حکومت سے کہا کہ وہ دو ہفتوں کے اندر اعلیٰ پیمانہ کی تفتیش سے متعلق اپنی پوزیشن واضح کریں۔

عدالت نے یہ فیصلہ جموں میں مقیم پنتھرس پارٹی کے سربراہ پروفیسر بھیم سنگھ کی درخواست پر سماعت کے بعد سنایا ہے۔ پروفیسر سنگھ نے عدالت عظمیٰ سے اپیل کی تھی کہ وہ مسٹر یوسف کے قتل کی تحقیقات بھارتی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی کے ذریعہ یقینی بنانے کے لیے جموں کشمیر حکومت کو واضح ہدایات دے۔

پروفیسر بھیم سنگھ نے عدالت کے اس حکمنامہ کو کشمیریوں کے زخموں پر مرحم رکھنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

حزب اختلاف پیپلز ڈیموکرٹیک پارٹی کے رہنما اور سابق وزیرقانون مظفرحسین بیگ کا کہنا ہے کہ کسی سپریم کورٹ جج یا ہائی کورٹ جج کو تفتیش کے لیے تعینات کرنے کا اختیار بھارتی صدر کو ہے، لیکن یہ جانتے ہوئے بھی حکومت نے لوگوں کو بہلانے کے لیے یہ اعلان کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے حکمنامہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر واقعی اس معاملہ کی سی بی آئی تفتیش ہوتی ہے تو یہ تفتیشی عمل سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہونا چاہیئے۔ ان کا کہنا ہے کہ دو ہزار نو میں دو کشمیری خواتین کی مبینہ جنسی زیادتی کے بعد قتل ہوا تو عوامی اصرار پر سی بی آئی نے تفتیش کی، لیکن تفتیش کے نتائج تنازعہ کا باعث بنے۔

مسٹر بیگ کہتے ہیں ’سپریم کورٹ نہ صرف یہ کہ سی بی آئی جانچ کا حکم دے بلکہ اس تفتیشی عمل کی نگرانی بھی کرے۔‘

واضح رہے کہ سید یوسف حکمران نیشنل کانفرنس کے ایک دیرینہ کارکن تھے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں دیگر پارٹی کارکنوں سے پارٹی اور حکومت میں اعلیٰ عہدے دلوانے کے عوض ایک کروڑ روپے سے زائد رقم جمع کی تھی۔

اسی تنازعہ سے متعلق انہیں وزیراعلیٰ نے انہیں اپنی سرکاری رہائش پر طلب کرکے پولیس کے سپرد کیا تھا۔ پولیس حراست میں ان کی موت ہوگئی۔

حکومت کا کہنا ہے ان کی موت حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوئی ہے، لیکن اپوزیشن کا الزام ہے کہ وزیراعلیٰ کی رہائش پر ان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسی بارے میں