’ کالے دھن کے مالکان کو نوٹس جاری‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انا ہزارے ملک سے کرپشن کےخاتمے کے لیے مہم چلا رہے ہیں

بھارت کے انکم ٹیکس کے محکمے نے ان افراد سے پوچھ گچھ کے لیے نوٹس جاری کرنے شروع کر دیے ہیں جن کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں کہ انہوں نے مبینہ طور پر غیر ممالک میں کالا دھن جمع کر رکھا ہے۔

انکم ٹیکس کے محکمے نے یہ کارروائی حکومتِ فرانس کی طرف سے بھارتی شہریوں کے سینکڑوں کھاتوں کے بارے میں تفصیلات ملنے کے بعد شروع کی ہیں۔

بھارت میں حزب اختلاف اور سول سوسائٹی نے بدعنوانی کے خلاف اور غیر ممالک میں جمع کالے دھن کوملک واپس لانے کے لیے تحریک چلا رکھی ہے ۔

فرانس کی حکومت نے حال میں بھارتی حکومت کو سوئٹزرلینڈ میں سات سو بھارتی کھاتوں کی تفصیلات فراہم کی ہیں ۔ ان کی بنیاد پر انکم ٹیکس کے محکمے نےگزشتہ ہفتوں میں درجنوں مقامات پر چھاپے مارے ہیں ۔

بعض اطلاعات میں بتایاگیا ہے کہ انکم ٹیکس کے محکمے نے ممبئی کے ایک سرکردہ صنعت کار سے پوچھ گچھ کی ہے اور ہریانہ، کیرالہ اور اتر پردیش کے تین ارکان پارلیمان کو بھی پوچھ گچھ کےلیےطلب کیاگیا ہے۔ انہیں یہ وضاحت کرنی ہوگی کہ جینیوا کے بینکوں میں جمع ان کی دولت کہاں سے آئی۔

انکم ٹیکس کےحکام نےان کھاتے داروں کے نام ابھی تک جاری نہیں کیے ہیں۔کھاتے داروں کی تفصیل سوئس حکومت کی طرف سے نہیں آئی ہے بلکہ یہ فرانسیسی حکومت نے دیے ہیں اور یہ سرکاری راستوں سے آئی ہے۔

وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے ایک سوال کے جواب میں کہا ’جب ہمیں تفصیلات ملتی ہیں ، تو اس کی تفتیش کی جاتی ہے ، قانونی کارروائی شروع ہوتی ہے اور معاملہ عدالت میں پہنچتا ہے اور موجودہ معاہدے کی شرائط کے مطابق اس مرحلے پر انکم ٹیکس کا محکمہ ان ناموں کا انکشاف کر سکتا ہے۔‘

اس سے پہلے بھی فرانس نے بھارتی کھاتے داروں کے بارے میں اطلات فراہم کی تھیں اور انہتر معاملوں میں بھارتی کھاتے داروں نے تقربیاً چار سو کروڑ روپے جمع کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ ان میں کچھ کھاتے داروں پر تیس کروڑ روپے کا ٹیکس لگایاگیا تھا۔

انکم ٹیکس کے محکمے نے جرائم کا ایک تفتیشی ڈائریکٹوریٹ تشکیل دیا ہے اور اس نے پہلے ہی تین سو کروڑ روپے بر آمد کیے ہیں۔

کچھ دنوں قبل جرمنی کی حکومت نے کالے دھن کےاٹھارہ بھارتی کھاتے داروں کی ایک فہرست حکومت کو سونپی تھی۔

حکومت نے ان کالے کھاتے داروں کے نام نہیں ظاہر کیے تھے اور ان کو محض بھاری جرمانہ عائد کر کے چھوڑ دیا تھا ۔لیکن اس بار حکام انکم ٹیکس کی سخت ترین دفعات کا استعمال کریں گے ۔ اس کے تحت جو بھی ٹیکس کی چوری اور غیر ممالک میں کالے دھن جمع کرنے کے مرتکب پائے گئے انہیں نہ صرف یہ کہ بھاری جرمانہ ادا کرنا ہوگا بلکہ اپے جرم کی نوعیت کے مطابق پانچ سے دس برس جیل میں بھی گزارنے ہونگے ۔

اسی بارے میں