کشمیر میں بچوں کے لیے انوکھا قانون

کشمیر میں بچوں کے لیے انوکھا قانون
Image caption اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو بھی عام حراست اور جیل میں رکھا جاتا ہے۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں جہاں ایک طرف حکومت حالات میں بہتری کا دعویٰ کرکے فوج کو حاصل خصوصی اختیارات ختم کرنا چاہتی ہے وہیں کم سن بچوں کی گرفتاری کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ اتوار کو گرفتار کئے جانے والے ایسے ہی پانچ بچے منگل کو پولیس نے مقامی عدالت میں پیش کیے۔ عدالت نے ان بچوں کو بحالی کے خاص مرکز یا ’جوِنل ہوم‘ میں رکھنے کا حکم دیا۔

شہرکی نواحی بستی نورباغ سے گرفتار کیے گئے گیارہ سالہ محسن اور تیرہ سالہ برہان نے دہشت زدہ لہجہ میں کہا کہ ’بہت مارا، کپڑے پھاڑے، مارا اور گالیاں دیں‘۔

ان کا دفاع کرنے والے وکلا نے بتایا کہ وہ پہلی مرتبہ اس قدر کم عمر کے بچوں کو پولیس حراست میں دیکھ رہے ہیں۔

عدالت کے احاطہ میں بچوں کے والدین نے حکومت کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ محسن کی بلکتی ماں نے سوال کیا: ’کون کہتا ہے یہاں حالات ٹھیک ہیں، کچھ ٹھیک نہیں۔ گھروں میں گھس کر معصوم بچوں کو گرفتار کرتے ہیں، کیا یہی ٹھیک ہے‘۔

بچوں کو عام قیدخانوں میں رکھنے پر انسانی حقوق کی تنظیموں کے احتجاج کے بعد حکومت نے ایک مخصوص جوِنل ہوم تعمیر کیا ہے، لیکن عدالت میں ان بچوں کی پیشی کے دوران وکلا نے بتایا کہ پتھراؤ کرنے کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد کم سن لڑکوں کو آج بھی پولیس حراست میں رکھا جاتا ہے۔

بچوں کی یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت ہو رہی ہیں جب کشمیرمیں مسلح تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے اور حکومت فوج کو حاصل اختیارات کی واپسی کا وعدہ کر چکی ہے۔ وزیراعلٰی عمرعبداللہ نے اس سلسلے میں بتایا کہ ’جن قوانین کو تشدد سے نمٹنے کے لیے نافذ کیا گیا تھا، ان کی اب ضرورت ہی نہیں رہی‘۔

واضح رہے وزیراعلٰی عمرعبداللہ نے چند ماہ قبل عید الفطر کے موقع پر کہا تھا کہ جو نوجوان آتشزنی یا اقدام قتل جیسے سنگین جرائم میں ملوث نہیں ہونگے انہیں عام معافی دی جائے گی لیکن پولیس پر پتھر پھینکنے یا بھارت مخالف نعرے بازی کے الزام میں بچوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

دریں اثنا اٹھارہ سال کی عمر سے کم کے نوجوانوں کو قیدخانوں میں رکھنے کے خلاف حقوق انسانی کے مقامی اداروں نے احتجاجی مہم شروع کی ہے۔ ریاست کے مقامی قانون کے مطابق قانونی مواخذہ کے لیے عمرکی حد سولہ سال رکھی گئی ہے، جب کہ پوری دنیا اور خود بھارت میں یہ عمر اٹھارہ سال ہے۔ بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم قانون دان عبدالرشید ہانجورہ کا کہنا ہے کہ ابھی بھی مختلف جیلوں میں اٹھارہ سال سے کم سینکڑوں بچے قید ہیں، لیکن حکومت انہیں بالغ تصور کرتی ہے۔ ’حکومت اپنے قانون کا حوالہ دیتی ہے، لیکن ہم اس قانون میں ترمیم چاہتے ہیں‘۔

قابل ذکر ہے کہ کشمیرمیں ہونے والے علیٰحدگی پسند مظاہروں میں زیادہ تعداد نوجوانوں اور بچوں کی ہوتی ہے۔ پولیس اکثر ان نوجوانوں کی پہچان ویڈیو ریکارڑنگ کے ذریعہ کرتی ہے اور بعد میں انہیں گرفتار کیاجاتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بچوں کی جیل یا جوِنل ہوم کا مقصد بچوں کو مظاہروں یا احتجاجی رجحان سے دور رکھنا ہے۔

اسی بارے میں