جیل کے اندر مدھو کوڈا کی بھوک ہڑتال

مدھو کوڈا تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مدھو کوڈا تقریبا دو برس سے جیل میں ہیں

بھارت کی ریاست جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلی مدھو کوڈا نے قیدیوں کو اچھا کھانا دینے کے مطالبے کے لیے جیل میں ہی بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب تک جیل کے تمام قیدیوں کے لیے اچھا کھانا نہیں دیا جاتا اس وقت تک وہ کھانا نہیں کھائیں گے۔

دو روز قبل جھارکھنڈ کی برسا منڈا جیل میں کھانے کے حوالے سے ہی جھگڑا ہوگيا تھا اور مار پیٹ میں سابق وزیر اعلی کو کافی چوٹ بھی آئی ہے۔

مارپیٹ کے واقعے کے بعد انہیں ہسپتال میں داخل کیا گيا تھا جہاں ایکسرے سے پتہ چلا کہ ان کے ایک ہاتھ کی ہڈی میں فریکچر ہے۔

مدھو کوڈا کا کہنا ہے کہ انہیں جیل کے گاروڈوں نے مارا تھا جس سے ان کے ہاتھ کی ایک ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔

مدھو کوڈا کی بیوی گيتا نے اس کے خلاف پولیس میں شکایت بھی درج کروائی ہے۔ مسٹر کوڈا اس پورے معاملے کی عدالتی تفتیش کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس دوران جھارکھنڈ کی اسمبلی کے سپیکر سی پی سنگھ نے ان سے ملاقات کی ہے۔ جب وہ ملاقات کے لیے پہنچے تو سابق وزیراعلی نے ذرائع ابلاغ کی موجودوگی میں کہا ’میں نے کل سے کچھ نہیں کھایا ہے۔ میں اس واقعے کی عدالتی تفتیش اور قیدیوں کے لیے بہتر کھانے کا مطالبہ کر رہا ہوں اور جب تک اس سے متعلق مجھے یقین نہیں دلایاجاتا اس وقت تک میں کھانا نہیں کھاؤنگا۔‘

برسا منڈا جیل میں قید تقریبا تیس مزید قیدی بھی اس مطالبے کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر بیھٹے ہیں۔

مدھو کھوڈا دو ہزار چھ سے دو ہزار آٹھ کے دوران ریاست کے وزیراعلی تھے۔ تقریبا تئیس ماہ کے ان کے دور اقتدار میں بدعنوانی کے کئي واقعات سامنے آئے تھے۔

بعد میں پتہ چلا کہ خود وزیراعلی کروڑوں روپے کے گھپلوں میں ملوث ہیں۔ اس معاملے میں مدھو کوڈا تیس نومبر دو ہزار نو سے عدالتی تحویل میں ہیں۔

اسی بارے میں