ٹو جی کیس، ملزمان کو ضمانت نہیں مل سکی

کنی موڑی
Image caption سی بی آئی نے کنی موڑی کی ضمانت کی مخالفت نہیں کی تب بھی جج نے ضمانت نہیں دی

ٹو جی سپیکٹرم بدعنوانی معاملے میں ڈی ایم کے رہنما ایم کرونا ندھی کی بیٹی کنی موڑی سمیت دیگر سات ملزمان کی عدالت نے ضمانت منظور نہیں کی ہے۔

حالانکہ اس معاملے کو تفتیش کرنے والی مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے کنی موڑی کی ضمانت کی مخالفت نہیں کی تھی

لیکن دلی میں سی بی آئی کے خصوصی جج او پی سینی نے کہا کہ ملزمان پر سنگین نوعیت کے الزامات ہیں اس لیے وہ ضمانت نہیں دے سکتے۔

رکن پارلیمان کنی موڑی، کلائی نار ٹی وی کے سربراہ شرد کمار، سوان ٹیلی کام کے پرموٹر شاہد بلوا، مواصلات کے سابق مرکزی وزیر اے راجہ کے سابق سیکریٹری آر کے چندولیہ، آصف بلوا، راجیو اگروال اور فلم پروڈیوسر کریم مورانی کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کی گئی ہیں۔

ٹو جی سپیکٹرم معاملے کی تفتیش کے بعد ملزمان پر فرد جرم بھی عائد ہو چکی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس عمل کے بعد عام طور پر ملزمان کو ضمانت مل جاتی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ’کیس کے حقائق اور جو ملزمان پر الزامات عائد کیے گئے ہیں وہ بہت ہی سنگین نوعیت کے ہیں، اس سے ملک کی معیشت پر اثر پڑا ہے۔ میں اس بات سے مطمئن ہوں کہ ملزمان اور عرضی گزاروں میں سے کوئی بھی ضمانت کا مستحق نہیں ہے۔‘

اس سے پہلے عدالت نے ٹو جی معاملے کے ملزم ٹیلی مواصلات کے سابق وزیر اے راجہ اور ڈی ایم کے کے سربراہ کروناندھی کی بیٹی اور ممبر پارلیمان کنی موڑی سمیت سترہ افراد کے خلاف الزامات طے کرنے کے بعد مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا۔

ان سبھی پر دفعہ 409 کے تحت مجرمانہ غفلت اور مجرمانہ سازش کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان دفعات کے تحت مجرم پائے جانے پر عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

کروناندھی کی جماعت مرکز میں کانگریس کی مخلوط حکومت میں شامل ہے۔ لیکن چند روز قبل ہونے والے ریاستی انتخابات میں اسے اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا تھا اور مبصرین کے مطابق اسی کی شکست میں بدعنوانی کا تاثر ایک اہم وجہ ثابت ہوا تھا۔

کنی موڑی پر الزام ہے کہ ان کے ٹی وی چینل کو اس گھپلے میں دی جانے والی رشوت کی رقم میں سے دو سو چودہ کروڑ روپے حاصل ہوئے تھے۔

اس چینل میں کنی موڑی تقریباً بیس فیصد کی شراکت دار ہیں جبکہ باقی حصہ بھی کروناندھی خاندان کے پاس ہی ہے۔

اسی بارے میں