ماليگاؤں دھماکے: نو ملزمان ضمانت پر رہا

ہندوستان میں ایک بم دھماکے کے بعد کی فوٹو(فائل) تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مالیگاؤں بم دھماکے کے بعد کئی مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا تھا

ممبئی کی ایک عدالت نے ان نو مسلمانوں کی ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا ہے جو سن دو ہزار چھ میں مالیگاؤں میں ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں چار سال سے جیل میں تھے۔

سنیچر کی صبح قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ ملزمان کی جانب سے ضمانت کی درخواست کی مخالفت نہیں کرے گی۔ اطلاعات کے مطابق این آئی اے کا اب یہ خیال ہے کہ ان دھماکوں میں ہندو شدت پسندوں کا ہاتھ تھا۔

مالیگاؤں کی حمیدیہ مسجد کے قریب اس بم دھماکےمیں سینتنس افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

سرکاری وکیل روہنی سالیان نے عدالت کو بتایا کہ حیدرآباد کی مکہ مسجد پر حملے کے سلسلے میں گرفتار کیے جانے والے ہندو مذہبی رہنما سوامی اسیم آنند نے این آئی اے کو بتایا تھا کہ مالیگاؤں کے بم دھماکے میں بھی ہندو شدت پسندوں کا ہاتھ تھا۔

اس کے بعد این آئی اے نے مزید تفتیش کی اور پرانے شواہد کا دوبارہ جائزہ لیا اور’ حقائق اور حالات کی بنیاد پر کافی غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیاگیا کہ سبھی ملزمان کی ضمانت کی مخالفت نہ کی جائے۔‘

لیکن این آئی اے نے کہا کہ اس کی تفتیش ابھی جاری ہے تاکہ اس کیس کے سلسلے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جاسکے۔

عدالت نے حکم دیا کہ ملزام کو پچاس ہزار روپے کے مچلکے پر رہا کردیا جائے۔

ان افراد کی رہائی میں ابھی ایک دو روز کا وقت لگ سکتا ہے کیونکہ آئندہ دو دن چھٹی ہونے کی وجہ سے عدالتیں بند رہیں گی۔

سوامی اسیم آنند مکہ مسجد پر بم حملے کے سلسلے میں جیل میں ہیں۔ یہ حملہ دو ہزار سات میں کیا گیا تھا اور بم حملے اور اس بعد پولیس کی کاروائی میں تقریبا بیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے کے سلسلےمیں بھی پہلے مسلمانوں کو ہی گرفتار کیا تھا جنہیں لمبی قانونی کارروائی کے بعد بے گناہ پایا گیا۔ سوامی اسیم آنند نے پہلے اقبال جرم کر لیا تھا لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ ان سے زبردستی اقبال جرم کرایا گیا تھا۔

ملزمان نے اپنی ضمانت کی درخواست میں کہا تھا کہ سوامی اسیم آنند کے اقبالیہ بیان سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ اصل مجرم اور لوگ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ چار سال سے جیل میں ہیں حالانکہ ان کے خلاف براہ راست کوئی شواہد نہیں ہیں۔

آٹھ ستمبر سنہ دو ہزار چھ کو مالیگاؤں میں جو بم دھماکہ ہوا تھا اس کی تفتیش پہلے مالیگاؤں پولیس نے کی تھی اس کے بعد کیس مہاراشٹر کی انسداد دہشت گردی عملہ کے سپرد کیاگیا تھا۔ اس سلسلے میں کئي مسلمانوں کو گرفتار کیا تھا۔

ہندو انتہا پسند تنظیم کے رکن سوامی اسیما نند کے مجسٹریٹ کے سامنے اقبالی بیان کے بعد مالیگاؤں شہر کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور وکلاء نے مالیگاؤں بم دھماکے میں گرفتار ملزمان کی رہائی کے لیےکوششیں تیز کی تھیں

سوامی اسیما نند جنہیں سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن ( سی بی آئی ) نے بم دھماکوں کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا تھا، دوران حراست مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں ہوئے بیشتر بم دھماکوں میں آر ایس ایس کے سینئر پرچارک شامل ہیں۔

اسی بارے میں