بھارت کے زیرِ انتظام کشمیرمیں عید پر مظاہرے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے بیشتر قصبوں میں نمازِ عید کے بعد مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جبکہ علیٰحدگی پسند رہنماؤں کو گھروں میں نظربند کیا گیا ہے۔

عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے بعض علاقوں میں نوجوانوں نے ہند مخالف جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے طاقت کا استعمال کرکے مظاہرین کومنتشر کردیا۔

جھڑپوں میں کئی پولیس افسر اور مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں۔ مختلف مقامات سے پولیس نے نصف درجن سے زائد نوجوانوں کو ’احتیاطی حراست‘ میں لیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے عید سے ایک روز قبل خاتون رہنما آسیہ اندرابی سمیت کئی علیٰحدگی پسندوں کو رہا کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کشمیریوں کے لیے خیرسگالی کا مظاہرہ ہے۔ آسیہ اندرابی کو پندرہ ماہ قبل کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

لیکن اس دوران علیٰحدگی پسند رہنماؤں کو اپنے گھروں میں ہی نظربند رکھا گیا اور انہیں عید کی نماز میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق شمالی قصبہ سوپور میں نمازِ عید کے بعد مقامی نوجوانوں نے ہند مخالف مظاہرے کرنے کی کوشش کی۔ قصبہ میں پہلے سے ہی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے جلوس پر اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور لاٹھی چارج کیا۔

مقامی شہری غلام حسن نے بتایا کہ کم از کم پانچ نوجوانوں کو گرفتارکیا گیا۔ لیکن مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں ’احتیاطاً حراست میں لیا گیا۔‘

اُدھر جنوبی ضلع اننت ناگ (اسلام آباد) کے مرکزی عید گاہ میں جب عید کا اجتماع ختم ہوا تو نوجوانوں نے مظاہرے کرنے کی کوشش کی۔ مقامی شہری ارشاد احمد نے بتایا ’جب لڑکوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے جلوس نکالنے کی کوشش کی تو پولیس نے آنسوگیس کے گولے پھینکے اور ایک نوجوان کو گرفتار کرلیا۔ اس پر سب لوگ مشتعل ہوگئے اور پتھراؤ شروع ہوا۔‘

تاہم جموں کشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل شوِ موہن سہائے نے بی بی سی کو بتایا ’ اہلحدیث اور حنفی فرقہ کے لوگوں کے بیچ تناؤ تھا لیکن بعد میں ان کا تصادم پولیس مخالف مظاہروں میں تبدیل ہوگیا۔ ہمارے کچھ افسروں کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔‘

مسٹر سہائے کے مطابق بعض نوجوانوں کو پتھراؤ کرنے کے جرم میں حراست میں لیا گیا ہے۔

اس دوران علیٰحدگی پسند رہنماؤں سید علی گیلانی اور شبیر احمد شاہ سمیت کئی علیٰحدگی پسند رہنماؤں کو اتوار کی شب ہی گھروں میں نظربند کیا گیا اور انہیں نمازِ عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے سرینگر کے حضرت بل علاقہ میں واقع آثارشریف میں کڑے حفاظتی حصار میں نماز عید ادا کی۔

اسی بارے میں