گجرات فسادات: اکتیس کوعمر قید کی سزا

گجرات فسادات تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس واقعہ میں ایک مکان کے اندر پناہ لینے والے تینتیس مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا

گجرات کی ایک خصوصی عدالت نے سن دو ہزار دو کے مذہبی فسادات کے دوران پیش آنے والے سردار پورہ قتل عام کیس میں اکتیس افراد کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ باقی بیالیس ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔

یہ واقعہ اٹھائیس فروری دو ہزار دو اور یکم مارچ کی درمیان شب کو پیش آیا تھا جب مذہبی فسادات کے دوران مہسانہ ضلع کے سردار پورہ گاؤں میں ایک مکان کے اندر پناہ لینے والے تینتیس مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ان میں بیس عورتیں بھی شامل تھیں۔

سرکاری وکیل ایس سی شاہ نے کہا کہ ’سبھی اکتیس ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔انہیں دیگر الزامات کےسلسلے میں بھی سزائیں سنائی گئی ہیں اور ان پر پچاس ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔’

استغاثہ نے عدالت سے سبھی ملزمان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا لیکن بظاہر جج نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ ملزمان پر انفرادی طور پر بھی دفعہ تین سو دو کے تحت الزامات ثابت ہوئے ہیں۔

اس کیس کی چھان بین سپریم کورٹ کے حکم پر خصوسی تفتیشی ٹیم یا ایس آئی ٹی نے کی تھی جسے خود جانبداری کے الزامات کا سامنا رہا ہے۔ یہ ٹیم سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر کے آر راگھون کی سربراہی میں قائم کی گئی تھی۔

اس سے پہلے عدالت نے گودھرا میں ٹرین پر حملےسےمتعلق کیس گیارہ لوگوں کو موت اور بیس کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن مرکزی ملزم حاجی عمر کو بری کر دیا گیا تھا۔ ٹرین پر اس حملے میں انسٹھ ہندو مذہبی رضاکار ہلاک ہوئے تھے اور اس کے بعد ریاست گجرات میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔

گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو بھی اس الزام کا سامنا ہے کہ انہوں نے فسادات کو روکنے کے لیے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی تھی۔ فسادات میں سینکڑوں مسلمان مارے گئے تھے۔

ایس آئی ٹی کی تفتیش کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ مقامی رہنماؤں سمیت چھہتر افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ملزمان میں ایک نوجوان نابالغ تھا جبکہ دو کی تفتیش کے دوران ہی موت ہوگئی تھی جس کی وجہ سے جون دو ہزار نومیں تہتر لوگوں کے خلاف فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ اقلتی فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو گودھرا میں ٹرین پر حملے کے بعد منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا گیا تھا اور حملے سے پہلے ہتھیار بھی تقسیم کیے گئے تھے۔ لیکن ملزمان نے اپنے دفاع میں کہا کہ حملہ آور باہر سے آئے تھے۔

عدالت میں سزائیں سنائے جانےکا عمل جاری ہے۔

اسی بارے میں