’شمال مشرقی ہند:ماؤنوازوں کی بڑھتی طاقت‘

مواؤنواز باغی
Image caption گزشتہ کئی برسوں میں ماؤنواز باغیوں کے خلاف حکومتی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے

دلی میں واقع ’انسٹی ٹیوٹ آف کنفلکٹ مینجمینٹ‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی شمالی مشرقی ریاستوں میں ماؤنواز باغی اپنی طاقت کو بڑھانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق اپنے آپ کو مزید طاقتور بنانے کے لیے ماؤنواز باغی جہاں شمالی مشرقی ریاستوں میں کئی علیحدگی پسند تنظیموں کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہیں وہیں وہ ریاست اروناچل پردیش اور آسام جیسی ریاستوں میں جاری کئی تحریکوں کا حصہ بن رہے ہیں۔

گزشتہ کچھ مہینوں میں حکومت کی جانب سے ایسے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو ماؤنواز باغیوں کے ساتھ ملے ہوئے تھے اور ان کے ایجنڈے کو چلا رہے تھے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بعض ایسی گرفتاریوں پر احتجاج ہوئے ہیں اور حکومت پر تنقید بھی کی گئی ہے۔

بعض عام شہریوں کے ماؤنواز باغیوں سے ملے ہونے کے بارے میں خفیہ اداروں کو علم ہے لیکن ’انسٹی ٹیوٹ آف کانفلکٹ میجنمینٹ‘ کے اجیت کمار کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسند تنظیمیں جیسے الفا، این ڈی ایف بی، این ایس سی این، اور پی ایل اے نےماؤنواز باغیوں سے اپنے رشتے پختہ کرلیے ہیں۔

اجیت کہتے ہیں کہ ’ان دنوں ماؤنواز باغیوں کو وسطی بھارت میں اپنے گڑھ میں کافی دباؤ جھیلنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے وہ شمال مشرقی ریاستوں میں اپنے آپ کو مضبوط کر رہے ہیں۔الفا، این ڈی ایف بی، این ایس سی این، اور پی ایل جیسی تنظیمیں انہیں چینی اسلحہ فراہم کر رہی ہیں۔‘

اجیت کہتے ہیں کہ علیحدگی پسند تنظیموں کے ساتھ اتحاد کرنے کے علاوہ ماؤنواز کارکن کئی عوامی تحریکوں سے بھی جڑ گئے ہیں۔

مثال کے طور پر آسام کے کئی علاقوں میں علیحدہ ضلع کے مطالبے کے لیے تحریک جاری ہے۔ منی پور میں اقتصادی ناکہ بندی، اروناچل پردیش میں دبانگ گھاٹی اورجا پروجیکٹ کی بھی مخالفت جاری ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان تحریکوں کو نہ صرف عوام کی حمایت مل رہی ہے بلکہ ان میں ماؤنواز باغی بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں تاکہ وہ اپنی پارٹی کا دائرہ مزید وسیع کرسکیں۔

سابق سینیئر پولیس افسر شبیر دتا کا کہنا ہے کہ ماؤنواز پارٹی کا علیحدگی پسند تنظیموں سے کئی برسوں سے رشتہ بن رہا ہے پر نئی پارٹیوں کے بننے کے بعد اس بات پر زيادہ زور دیا جا رہا ہے۔ بھارت کی سرکار کے خلاف شمالی مشرقی ریاستوں میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیموں کو ماؤنواز باغیوں کی حمایت ملی ہے، اور بدلے میں الفا جیسی تنظیموں نے ماؤنواز پارٹیوں کو اسلحہ فراہم کیا ہے۔

پولیس کے ذرائع کے مطابق گزشتہ دو تین مہینوں میں آسام اور دیگر شمالی مشرقی ریاستوں میں تقریباً بیس سے بھی زیادہ ماؤنواز باغیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض ایسے لوگ ہیں جو کسی نہ کسی تحریک سے منسلک ہیں۔

اسی بارے میں