ٹی وی کی نقل کرتے لڑکا ہلاک

پھانسی کا پھندا
Image caption اس بات پر کئی بار بحث ہوچکی ہے کہ ٹی وی سیریل بچوں پر غلط اثر ڈالتے ہیں

پُرانے سرینگر کے علاقے نواکدل میں سنیچر کی شام بشیر احمد اور رقیہ کا آٹھ سالہ بیٹا بھارتی ٹی وی چینل ’سونی‘ پر سلسلہ وار ڈرامہ ’سی آئی ڈی‘ کی نقل کرتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

اب یہ کنبہ حکومت ہند سے رجوع کرنا چاہتا ہے تاکہ اس ڈرامہ پر پابندی عائد کی جائے۔ جرم اور جرم کی تفتیش سے متعلق یہ مقبول سیریل پچھلے تیرہ سال سے سونی ٹی وی پر نشر ہو رہی ہے۔

رُقیہ کہتی ہیں کہ ’وہ تو کئی سال سے سی آئی ڈی ڈرامہ دیکھتا تھا۔ سکول سے آیا تو میرا دوپٹہ مانگا، کچھ منٹ بعد میں چائے پر بلانے گئی تو دیکھا وہ چھت سے لٹک رہا ہے۔‘

ارسلان اکلوتا بیٹا تھا اور اس کے والدین کہتے ہیں کہ بچپن سے تجسّس پسند اور انتہائی سرگرم تھا۔ اس کی بڑی بہن تیرہ سالہ مہک کہتی ہیں کہ ارسلان اکثر سی آئی ڈی ڈرامہ میں اے سی پی پردھیومن کا کردار نبھانے والے اداکار ’شوا جی ستّم‘ کی نقل کرتا تھا۔

ارسلان کے خالہ زاد بھائی عاشق حسین مذکورہ ٹی وی چینل کے خلاف حکومت ہند سے شکایت کرینگے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس سے پہلے بھی شکتی مان نام سے ایک ڈرامہ آتا تھا، اس کی دیکھا دیکھی میں کئی بچوں نے اُونچی دیواروں سے کودنا شروع کیا اور کئی بچے زخمی بھی ہوئے۔ لیکن اس بار تو حد ہوگئی، ایک بچے کی زندگی ہی ختم ہوگئی۔‘

وادی کے سرکردہ ماہر نفسیات ڈاکٹر ارشد حسین کا کہنا ہے کہ بچوں پر ٹی وی کے اثرات سے متعلق کئی دہائیوں سے دنیا میں بحث جاری ہے، لیکن اب یہ ثابت ہوگیا ہے کہ بچے انٹرنیٹ اور ٹی وی کی خیالی دنیا میں رہ کر وہاں کی ساری مصنوعی باتوں کو اصلی سمجھ کر اپنی زندگی میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ڈاکٹر حسین کے مطابق ’بچے جب ٹی وی پر تشدد یا جرم یا کوئی خطرناک حرکت دیکھتے ہیں وہ اس میں اور اصلیت میں فرق محسوس نہیں کرسکتے، اور انہیں لگتا ہے کہ یہ ممکن ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی اور طرز زندگی میں تبدیلی کی وجہ سے کشمیر اور دوسرے بھارتی خطوں میں کم سن بچوں کو اکیلے پن کا احساس ہے، اور وہ یہ اکیلاپن دُور کرنے کے لئے تصوراتی دنیا میں چلے جاتے ہیں۔

بھارتی رضا کار انیتا چندا کہتی ہیں کہ ’اب تو بچے کھیل کے میدان میں نہیں جاتے ، وہ فیس بک پر دوست بناتے ہیں اور ٹیلی ویژن پر اپنے محبوب ہیروز کو دیکھتے ہیں۔ یہ بچے وہ سب کچھ بننا اور کرنا چاہتے ہیں جو وہ ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔‘

بعض مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ وادی میں والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے بارے میں زیادہ حساس ہیں، کیونکہ پچھلے تین سال کے دوران کشمیر میں تشدد اور سرکاری کارروائیوں کا اثر چونکہ بچوں پر پڑا ، اور درجنوں بچے مارے گئے یا قید کئے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ والدین بچوں کو ٹی وی اور انٹرنیٹ کی سہولت مہیا کرتے ہیں تاکہ وہ نظروں سے دُور نہ ہوجائیں۔ اور اس کا برا اثر بچوں کی نفسیات پر پڑتا ہے۔

اسی بارے میں