بھارت، سابق وزیرکو پانچ سال قید

سکھ رام تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption سکھ رام پر چار لاکھ کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے

بھارت میں ٹیلی مواصلات کے سابق وفاقی وزیر سکھ رام کو بدعنوانی کے ایک کیس میں پانچ سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ سکھ رام کی عمر چھیاسی برس ہے۔

دلی کی ایک عدلت نےان پر چار لاکھ روپے کاجرمانہ بھی عائد کیا۔ سزا سنائے جانے کے فوراً بعد انہیں حراست میں لیکر تہاڑ جیل بھیج دیا گیا ہے جہاں ایک اور سابق وزیر مواصلات اے راجہ پہلے سے قید ہیں۔

مسٹر سکھ رام پر انیس سو چھیانوے میں ایک نجی کمپنی سے تین لاکھ روپے بطور رشوت لینے کا الزام ثابت ہوا تھا جس کے بعد انہوں نے اپنی صحت اور عمر کی بنیاد پر عدالت سے رعایت کی درخواست کی تھی۔ لیکن مرکزی تفتیشی بیورو نے عدالت میں کہا کہ ’عادی مجرم‘ ہیں لہذا سزا سنانے میں ان کے ساتھ کوئی نرمی نہیں دکھائی جانی چاہیے۔

ان پر تعزیرات ہند کی جن دفعات کے تحت جرم ثابت ہوا تھا ان میں زیادہ سے زیادہ سات سال کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

وہ پی وی نرسمہا راؤ کی قیادت والی کانگریس کی حکومت میں ٹیلی مواصلات کے وزیر تھے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے تین لاکھ روپے لیکر ہریانہ کی ایک کمپنی کو تیس کروڑ روپے کا ٹھیکہ دیا تھا۔

مسٹر سکھ رام کی طرف سے ان کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ’ میری عمر چھیاسی برس ہے اور میں بارہ تیرہ سال سے مقدمے کی سماعت کے لیے حاضر ہو رہا ہوں، بڑھاپے کی وجہ سے مجھے کئی بیماریاں بھی ہوگئی ہیں اور میری بیوی کا بھی انتقال ہو چکا ہے، لہذا میرے ساتھ رعایت کی جائے۔‘

سکھ رام پہلی مرتبہ انیس سو چھیانوے میں مشکلات میں گھرے تھے جب سی بی آئی نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر تقریباً ایک کروڑ سولہ لاکھ روپے نقد برآمد کیے تھے۔ اس وقت سکھ رام وفاقی وزیر تھے۔

مسٹر سکھ رام کو بدعنوانی کے دو دیگر معاملوں میں بھی سزا سنائی جاچکی ہے۔ سن دو ہزار نو میں ان پر اپنی جائز آمدنی سے زیادہ کے اثاثے رکھنےکا جرم ثابت ہوا تھا۔ سن دو ہزار دو میں بھی انہیں ایک کیس میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ فی الحال ضمانت پر رہا تھے۔

مسٹر سکھ رام کا تعلق ہماچل پردیش سے ہے اور وہ سات مرتبہ ریاستی اسمبلی اور تین مربتہ لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔

اسی بارے میں