اترپردیش کو تقسیم کرنے کی قرارداد منظور

مایا وتی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعلی مایا وتی ریاست کو چار مختف صوبوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہیں

بھارت کی ریاست اترپردیش کی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے زبردست ہنگامہ کے دوران ریاست کو چار مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی قرار داد کو منظور کر لیا گيا ہے۔

ریاستی کابینہ نے چند روز پہلے اس قرارد کی اتفاق رائے سے منظوری دی تھی۔

اسمبلی میں منظور کی گئی اس قرارداد میں ریاست کو پروانچل، بندیل کھنڈ، اودھ پردیش اور مغربی اترپردیش کے نام سے چار صوبوں میں تقسیم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ قرارداد اب ودھان پریشید میں پیش کی جائیگي اور اس ایوان سے منظوری کے بعد اسے مرکزی حکومت کے پاس بھیجا جائے گا۔

پیر کی صبح ریاستی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن سماجوادی پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی شروع کی اور وزیراعلی مایا وتی کے استعفی کا مطالبہ کیا گيا۔

یہ اجلاس خصوصی طور پر اس قرارداد کو منظور کرنے کے لیے بلا یاگیا تھا لیکن اپوزیشن ریاست میں امن و قانون کی صورت حال اور بدعنوانی جیسے امور پر بحث کا مطالبہ کر رہے تھے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی مایاوتی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر مصر تھی لیکن سپیکر نے اس کی اجازت نہیں دی۔

2011 کی مردم شماری کے مطابق اترپریش کی آبادی انیس کروڑ سے زیادہ ہے۔ لوک سبھا یعنی ایوان زیریں کی 544 سیٹوں میں سے 80 سیٹیں اکیلے اتر پردیش کی ہیں۔

مایاوتی کی جماعت بی ایس پی کا کہنا ہے کہ وہ اصولی طور پر چھوٹی ریاستوں کے حق میں رہی ہے کیونکہ اس کا انتظام آسان ہوتا ہے اور ترقی کا فائدہ سبھی کو پہنچتا ہے۔

بی جے پی نے اس سلسلے میں ابھی تک اپنا موقف ظاہر نہیں کیا ہے لیکن اطلاعات ہیں کہ وہ ریاست کی تقسیم کی حمایت کرے گی جبکہ کانگریس پارٹی نے اس سلسلے میں اپنا موقف ظاہر نہیں کیا ہے۔

ریاست کی اصل اپوزیشن جماعت سماج وادی پارٹی ہی واحد جماعت ہے جو اتر پردیش کی تقسیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وسائل کی کمی کے سبب چھوٹی ریاستیں ترقی نہیں کر سکیں گی اور انہیں بین االاقوامی سرحدوں کے خطرات کا بھی سامنا کرنا ہو گا اور ساتھ ہی وہ اپنی سیاسی اہمیت بھی کھو دیں گی۔

اسی بارے میں