پارلیمانی اجلاس میں زبردست ٹکراؤ کی توقع

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیرِاعظم منموہن سنگھ کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ زبردست سیاسی چیلنج کا سامنا ہے

بھارت کی پارلیمان کا موسمِ سرما کا اجلاس منگل سے شروع ہو رہا ہے۔ لیکن اجلاس سے قبل ہی حزب اختلاف نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ وزیر داخلہ پی چدامبرم کا پارلیمنٹ میں اس وقت تک تائیکاٹ کریں گی جب تک کہ وہ مستعفی نہیں ہو جاتے۔

اجلاس سےایک روز قبل حزب اختلاف کے اتحاد این ڈی اے کی جماعتوں نے متفقہ طور پر پی چدامبر م کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ اجلاس کے بعد بی جے پی کے رہنماء ایس ایس اہلو والیہ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ موبائل فون کے لائسنسوں میں بے قاعدگی کے لیے جس طرح ٹیلی مواصلات کے وزیر اے راجہ ذمہ دار ہیں بالکل اسی طرح اس وقت وزارت خزانہ کے عہدے پر مامور پی چدامبرم بھی اس بے قاعدگی کے مساوی طور پر ذمہ دار ہیں ۔

انہون نے کہا ’جب تک پی چدامبرم مستعفی نہیں ہو جاتے اس وقت تک ہم پارلیمنٹ میں ان کا بائیکاٹ کریں گے اور انہیں بولنے نہیں دیں گے۔‘

پارلیمانی اجلاس کے آغاز پر منگل کو بی جے پی کے سینیئر رہنماء ایل کے اڈوانی بیرونِ ممالک مالیاتی اداروں میں جمع کالے دھن کے سوال پر ایک تحریک التوا پیش کریں گے۔ اسی طرح بائیں بازو کی جماعتیں بے قابو مہنگائی پر تحریک التوا پیش کریں گی جس کی دوسری جماعتیں حمایت کریں گی۔

حزب اختلاف کی جماعتیں اس اجلاس میں آندھرا پردیش اور مہاراشٹر میں کسانوں کی خودکشیوں کے مسئلہ کو اٹھائیں گی۔ رٹیل سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دینے کے سوال پر بھی خاصا ہنگامہ ہونے کی توقع ہے۔

اس اجلاس میں بیس سے زیادہ نئے بل پیش کیے جائیں گے اور تقریباً تیس پرانے بل بھی منطوری کے لیے زیر بحث آئیں گے۔ لیکن سب سے اہم بل سرکاری اداروں میں بد عنوانی پر قابو پانے کے لیے لوک پال بل ہو گا۔

انا ہزارے اور ان کے ساتھی پہلے ہی متنبہ کر چکے ہیں کہ اگر ایک مؤثر لوک پال بل پارلیمنٹ کے اس اجلاس میں منظور نہ ہوا تو وہ موجودہ حکومت کے خلاف پورے ملک میں تحریک شروع کر دیں گے۔

یہ اجلاس ایک ایسے وقت شروع ہو رہا ہے جب حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود مہنگائی پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ معیشت کی ترقی کی شرح اب کم ہونے لگی ہے اور سالانہ معاشی اہداف حاصل کرنا مشکل ہوسکتے ہیں۔

حکومت کو ایک طرف بد عنوانی کے متعدد الزامات کا سامنا ہے اور دوسری طرف اس کے بارے میں یہ تاثر عام ہونے لگا ہے کہ یہ حکومت بے اثر ہو چکی ہے اور کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

گزشتہ دنوں ملک کے کئی اعلٰی صنعت کاروں نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ فیصلوں میں تذبذب سے پیدا ہونے والی بے یقینی کی فضاء کو ختم کرے اور تیز رفتار فیصلہ سازی کانظام نافذ کرے۔

وزیرِاعظم منموہن سنگھ کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ زبردست سیاسی چیلنج کا سامنا ہے۔جبکہ اب تک وہ اس کا سامنا کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ اگر کچھ دنوں تک اور چلا تو یہ ان کی جکومت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں