بھارت: مرانڈی کی سزائے موت کے خلاف مہم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ماؤ نواز باغیوں کے ایک حملے میں سابق وزیر اعلٰی بابو لال مرانڈی کے بیٹے انوپ سمیت بیس افراد ہلاک ہو گئے تھے

آندھرا پردیش میں دانشوروں، ادیبوں، شاعروں اور دیگر فنکاروں کی ایک کمیٹی نے جھارکھنڈ کے قبائلی کارکن اور فنکار جيتین مرانڈی کو سزائے موت دینے کے فیصلے کے خلاف اپنی مہم اور بھی تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کمیٹی میں کئی تنظیموں کے نمائندے شامل ہیں۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب رانچی ہائی کورٹ سزائے موت کے خلاف جيتین مرانڈی اور ان کے تین ساتھیوں کی اپیل پر بدھ کے روز سماعت کرنے والی ہے۔

جھارکھنڈ میں گرڈيہ کی عدالت نے رواں برس جولائی میں مرانڈی اور ان کے تین ساتھیوں کو چلكاري میں بیس افراد کے قتل کے معاملے میں موت کی سزا سنائی تھی۔

چھبیس اکتوبر سنہ دو ہزار سات میں ماؤ نواز باغیوں کے ایک حملے میں سابق وزیر اعلٰی بابو لال مرانڈی کے بیٹے انوپ سمیت بیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقعہ کے ایک سال بعد پولیس نے قبائلی کارکن جيتین مرانڈی کو گرفتار کر کے ان پر اس واقعہ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔

جيتین مرانڈی کا کہنا تھا کہ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور پولیس انہیں ماؤنواز جيتین مرانڈی سمجھ رہی ہے، جبکہ وہ ایک الگ شخصیت ہیں۔

جيتین مرانڈی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جيتین کو جان بوجھ کر سیاسی وجوہات کے باعث اس معاملے میں پھنسایا گیا ہے۔

انقلابی مصنف، یونین کے کارکن اور شاعر وارا وارا راؤ نے کہا کہ مرانڈی کو اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ کان کنی کرنے والی کمپنیوں کے فائدے کے لیے قبائلیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کے خلاف مہم چلا رہے تھے اور اس کے لیے انہوں نے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر مظاہرہ بھی کیا تھا۔

اس کے علاوہ مرانڈی سیاسی قیدیوں کی رہائی کی کمیٹی کے بھی کنوینر ہیں۔

وارا وارا راؤ نے کہا کہ پہلی دسمبر کو حیدرآباد میں جتین مرانڈی کو سزائے موت کےفیصلے کے خلاف ایک بڑی ریلی منعقد کی جائے گی کیونکہ اسی دن سنہ انیس سو پچھہتر میں آندھرا پردیش کے ایک انقلابی كرسٹا بلوچ کو پھانسی پر چڑھایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش میں اس سے پہلے ناگبھوش بلوچ اور دوسرے انقلابیوں کو جب سزائے موت سنائی گئی تھی، تو اس کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر تحریک چلا کر اس فیصلے کو ركوايا گیا تھا۔

واراوارا راؤ اور دیگر کارکنوں نے کہا کہ وہ جيتین مرانڈی کی حمایت میں نہ صرف پورے ملک بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مہم چلائیں گے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی کافی اہم بن گیا ہے کیونکہ بھارت کا آئین نافذ ہونے کے بعد سے یہ پہلی بار ہے کہ ایک دیہاتی کارکن کو عدالت نے موت کی سزا سنائی ہے۔

اسی بارے میں