پارلیمان میں ہنگامہ، اجلاس ملتوی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرمائی اجلاس میں کئی اہم بل پر بحث ہونی ہے

بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بدھ کو مسلسل دوسرے دن بھی حزب اختلاف کے ہنگامہ کے سبب کوئی کام نہیں ہو پایا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتیں مہنگائی اور کالے دھن کے سوال پر بحث کا مطالبہ کر رہی ہیں اور اس کے لیے انہوں نے تحریک التوا کے نوٹس بھی پیش کیے ہیں۔

حکومت بحث کے لیے تو تیار ہے لیکن تحریک التوا کے حق میں نہیں ہے اور کسی ایسی شق کے تحت بحث نہیں کرانا چاہتی جس میں ووٹنگ کی گنجائش ہو۔

اس کے علاوہ ایک علیحدہ تیلنگانہ ریاست کے مطالبے کی گونج بھی پارلیمان میں سنائی دے رہی ہے۔

ملک میں مہنگائی بے قابو ہے اور بھارتیہ جتنا پارٹی اور بائیں بازو کی جماعتیں حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے کے لیے بحث کے مطالبے پر بضد ہیں۔

حکومت کی جانب سے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے اس جمود کو توڑنے کی کوشش میں بائیں محاذ اور بی جے پی کی قیادت سے بات چیت کی ہے لیکن بظاہر کسی سمجھوتے پر نہیں پہنچا جاسکا۔

حکومت سرمائی اجلاس میں کئی اہم قوانین منظور کرانا چاہتی ہے جس کے لیے اسے حزب اختلاف کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔ ان میں جن لوک پال بل بھی شامل ہے جسے منظور کرانے کے لیے سماجی کارکن کافی عرصے سے تحریک چلا رہے ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی وزیر داخلہ پی چدامبرم کا بھی بائیکاٹ کر رہی ہے کیونکہ اس کا الزام ہے کہ ٹو جی گھپلے میں مسٹر چدامبرم کا کردار بھی مشکوک تھا جس کی تفتیش کی جانی چاہیے اور آزادانہ تفتیش اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک مسٹر چدامبرم مستعفی نہیں ہوتے۔

مبصرین کے مطابق اگر پارلیمان کی کارروائی نہیں چل پاتی تو حکومت کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچےگا کیونکہ عوام کو یہ پیغام جائےگا کہ حکومت حزب اختلاف کے دباؤ کے آگے بے بس ہوگئی ہے۔

مسٹر پرنب مکھرجی نے منگل کو لوک سبھا میں کہا تھا کہ حکومت آئندہ برس مارچ تک افراط زر کو (موجودہ تقریباً دس فیصد سے) کم کرکے چھ سے سات فیصد تک لانا چاہتی ہے اور یہ کہ مہنگائی کی صورتحال میں بہتری آرہی ہے۔

لیکن بی جے پی نے ان کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

گزشتہ برس بھی پارلیمان کے سرمائی اجلاس میں حزب اختلاف نے ٹو جی سکیم کے سلسلے میں ایک بھی دن کام نہیں چلنے دیا تھا۔

اسی بارے میں