بھارت: غیر ملکی سپر سٹورز کی مخالفت

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 25 نومبر 2011 ,‭ 08:51 GMT 13:51 PST
والمارٹ کی ایک فوٹو

بھارتی حکومت نے گزشتہ روز یہ فیصلہ کیا ہے کہ بین الاقوامی کمپنیاں بھارت میں اپنے سپرمارکیٹس کھول سکتی ہیں

بھارتی پارلیمان میں حکومت کی اتحادی جماعت ترنمول کانگریس اور حزب اختلاف نے متحد ہو کر ملک میں بین الاقوامی کمپنیوں کو سپر مارکیٹیں کھولنے کی اجازت دیے جانے کی مخالفت کی ہے۔

وفاقی کابینہ نے گزشتہ رات غیر ملکی کمپنیوں کو ’ملٹی برانڈ ریٹیل‘ کے شعبے میں اکیاون فیصد سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دی تھی جس کے نتیجے میں کارفور، ٹیسکو اور وال مارٹ جیسی کمپنیاں ملک کے دس لاکھ سے زیادہ آبادی والے شہروں میں اپنے سپر سٹور کھول سکیں گی۔

ترنمول کانگریس، حزب اختلاف کی بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور بائیں بازو کی جماعتیں حکومت سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کررہی ہیں اور جمعہ کو دونوں ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی انہوں نے حکومت پر دباؤ قائم کرنے کے لیے نعرے بازی کی۔

لیکن کارپوریٹ دنیا نے حکومت کے فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پالیسی سازی میں جمود کو توڑنے کے لیے اس طرح کے مزید ٹھوس اقدامات درکار ہیں کیونکہ معیشت کو ان مشکل حالات میں اصلاحات کی سخت ضرورت ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اتحادی جماعتوں کے علاوہ خود حکمراں کانگریس میں بھی رائے تقسیم ہے لیکن وفاقی وزیر برائے کاروبار آنند شرما اور وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کا موقف ہے کہ سپر مارکیٹیں کھولنے کی اجازت دینے سے کسانوں اور صارفین کو فائدہ ہوگا۔

"جب بین الاقوامی کمپنیاں ملک میں سرمایہ کاری کریں گی تو کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچےگا کیونکہ ملک میں بنیادی ڈھانچے کی سخت کمی ہے اور کسانوں کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ سرد خانوں کی سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے تباہ ہوجاتا ہے۔"

آنند شرما

جمعہ کو حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے آنند شرما نے کہا کہ جب بین الاقوامی کمپنیاں ملک میں سرمایہ کاری کریں گی تو کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچےگا کیونکہ ملک میں بنیادی ڈھانچے کی سخت کمی ہے اور کسانوں کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ سرد خانوں کی سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے تباہ ہوجاتا ہے۔

لیکن حزب اختلاف اور ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ بڑی کمپنیاں کسانوں کا استحصال کریں گی اور کرانے کی چھوٹی دکانیں بند ہوجائیں گی کیونکہ وہ بڑی سپر مارکیٹوں سے مقابلہ نہیں کرپائیں گی۔

اس فیصلے کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی سے پریشان صارفین کو بہتر معیار کا سامان کم قیمت پر مل سکے گا، کسانوں کو اپنی پیداوار کے لیے بہتر دام ملیں گے، بھارتی کمپنیاں غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرسکیں گی جس سے ان کا کاروبار بڑھے گا اور اس کے نتیجے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

مخالفین کا موقف ہے کہ ملک میں چھوٹے کاروبار بند ہوجائیں گے اور ان میں کام کرنے والے لوگ بے روزگار ہوجائیں گے۔ لیکن حکومت کا دعوی ہےکہ اس نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ جو شرائط منسلک کی ہیں ان سے ان تمام تحفظات کا ازالہ ہوجاتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔