کشمیر: بچوں کی گرفتاریوں کے خلاف ہڑتال

کشمیر میں ہڑتال کی ایک فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی یہ کہتی رہی ہیں کہ کشمیر کی جیلوں میں کم سن لڑکےگرفتار ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں نوجوانوں اور کم سن بچوں کی گرفتاریوں کےخلاف جمعہ کو ہونے والی ہڑتال سے کاروبارِ زندگی متاثر ہوا ہے۔

اس ہڑتال کی کال حریت کانفرنس (گ) کے سربراہ سیّد علی شاہ گیلانی نے دی تھی۔

علی شاہ گیلانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جموں کشمیر اور دوسری بھارتی ریاستوں کی جیلوں میں کشمیری قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے اور کم سن بچوں کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظيم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایشیا واچ جیسے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ قیدیوں کی رہائی کے لیے اپنے اثرورسوخ استعمال کریں۔

ہڑتال کی وجہ سے جمعہ کو سری نگر اور دوسرے اضلاع میں تعلیمی اور کاروباری ادارے بند رہے۔

حریت کانفرنس (گ) نے دعویٰ کیا ہے کہ جموں کشمیر کی جیلوں میں تقریباً نو سو کشمیریوں کو قید کیا گیا ہے جن میں پچاس کمسن لڑکے ہیں۔

پولیس کے ترجمان نے اس دعوے کے ردعمل میں کہا ہے کہ کشمیر کی جیلوں میں صرف اڑتیس کمسن لڑکے ہیں جن میں سے بیشتر قتل، لڑکیوں کے ساتھ چھیڑچھاڑ اور چوری کے الزامات میں بند ہیں۔

حریت کانفرنس(گ) کے ترجمان ایاز اکبر نے ایک بیان میں پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دُوردراز دیہات میں عام لوگوں کو ستارہی ہے اور بعض پولیس افسر غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

ایاز اکبر نے بتایا کہ ’نئی دلّی اور مقامی حکومت نے مل یہاں کے آزادی پسندوں کے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے۔' ترجمان کے مطابق جموں کشمیر کے کورٹ بلوال اور امب پھالہ جیلوں میں گوانتانامو اور ابوغریب جیسی صورتحال ہے‘۔

واضح رہے تین ماہ قبل وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے گرفتاریوں کا سلسلہ بند کرنے اور معمولی الزامات میں گرفتار کئے گئے نوجوانوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں