’منصوبہ سازوں کے خلاف کارروائی کا انتظار‘

تاج ہوٹل کی فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 2008 میں ممبئی میں کئی مقامات پر شدت پسندانہ حملے ہوئے تھے

سنہ دو ہزار آٹھ کے ممبئی حملوں کی تیسری برسی کے موقع پر بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے کہ بھارت اب بھی اتنظار کررہا ہے کہ پاکستان ممبئی حملوں کی سازش کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔

انہوں نے کہا ’ہم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ممبئی پر حملوں کی سازش کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ شدت پسندی کو ملک کی پالیسی کے طور پر استعمال کرنا صحیح نہیں ہے۔ ’پوری دنیا میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

سنہ دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں شدت پسندوں نے کئی مقامات پر حملے کیے تھے جس میں ایک سو اسّی افراد ہلاک اور ڈھائی سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

ان حملوں کے بعد واحد زندہ بچنے والے حملہ آور اجمل قصاب ممبئی کی جیل میں قید ہیں۔ انہیں عدالت نے متعدد افراد کو ہلاک کرنے کا مجرم قرار دیا ہے اور انہیں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ ان حملوں کی سازش پاکستان میں بنائی گئی اور وہیں سے حملہ آور ممبئی پہنچے تھے۔ ان حملوں کے بعد نہ صرف بھارت اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہوئے اور امن مذاکرات بھی معطل ہوگئے تھے۔

ممبئی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایس ایم کرشنا نے کہا کہ باہمی مسائل کا حل خوشگوار ماحول میں ہی نکالا جاسکتا ہے۔

اس سوال پر کہ ممبئی حملوں سے متعلق جو ثبوت بھارت نے پاکستان کو فراہم کیے ہیں انہیں وہ کافی نہیں مانتا ہے؟ بھارتی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا ’بھارت قانون کی بنیاد پر کام کرنے والا ملک ہے اور وہ اپنے مجرموں کو ہر دن سزا سناتا ہے۔ پوری دنیا میں اس کے عدالتی نظام کا نام ہے۔‘

انکا کہنا تھا ’وزیر داخلہ نے جو ثبوت پاکستان کو سونپے ہیں وہ کسی بھی عدالت کے لیے ممبئی حملے کی سازش کرنے والوں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے کافی ہیں۔‘

دوسری جانب پا کستان میں ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں گرفتار سات افراد پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہے لیکن ان حملوں کی تحقیقات کرنے والے بھارتی حکام کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے ایک عدالتی کمیشن جلد بھارت روانہ ہورہا ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمن ملک کا کہنا ہے کہ اس کمیشن کو بھیجنے میں کچھ قانونی رکاوٹیں تھیں جو اب دور ہوگئی ہیں اور بہت جلد کمیشن بھارت جائے گا۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا پاکستان کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق اور مستند اطلاعات کی بنیادوں پر ہی تحقیقات آگے بڑھائی جائیں گی۔

اسی بارے میں