’سپر مارکیٹیں کسانوں کے لیے فائدہ مند‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ reuters
Image caption کابینہ کے فیصلے کے مطابق وال مارٹ جیسے برانڈ بھارت میں کھل سکیں گے

بھارت میں غیر ملکی سپر مارکیٹیں کھولنے کی اجازت دینے کے معاملے پر حزب اختلاف اور خود اپنی اتحادی جماعتوں کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ جلد بازی میں نہیں کیا گیا اور اس سے کسانوں کو فائدہ پہنچےگا۔

حکومت نےگزشتہ ہفتے وال مارٹ اور ٹیسکو جیسی بڑی کمپنیوں کی خوردہ کاروبار میں شرکت کی راہ ہموار کرتے ہوئے اس شعبے میں اکیاون فیصد براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دی تھی۔

لیکن اس فیصلے سے کانگریس کی اتحادی جماعتیں بھی ناراض ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مل کر پارلیمان کی کارروائی نہیں چلنے دے رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت اپنا فیصلہ واپس لے اور اس مسئلہ پر پارلیمان میں بحث کی جائے۔

وزیر خزانہ پرنب مکھرجی اس تعطل کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن فی الحال کوئی راستہ نہیں نکل سکا ہے کیونکہ حکومت پیچھے ہٹنےکے لیے تیار نہیں ہیں۔

وزیراعظم نے منگل کو دلی میں یوتھ کانگریس کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح عندیہ دیا کہ یہ فیصلہ واپس نہیں لیا جائےگا۔ ’ہم نے یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ ہمیں یقین ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کاری سے ملک میں جدید ٹیکنالوجی آئے گی، کسانوں کی فصل کی بربادی کم ہوگی اور انہیں اپنی پیداوار کی بہت قیمت ملے گی‘۔

اس فیصلے کی مخالفت کرنے والی جماعتوں کا دعوٰی ہے کہ بڑی کمپنیوں کی آمد سے کسانوں کے استحصال کا سلسلہ شروع ہوگا اور ملک سے چھوٹےکاروبار ختم ہوجائیں گے۔

لیکن منموہن سنگھ نے کہا کہ’ بہت سے دوسرے ملکوں کا تجربہ یہ رہا ہے کہ ہمارے جیسے بڑے ملک میں چھوٹے اور بڑے کاروبار ساتھ ساتھ کام کر سکتے ہیں ’اور جو ریاستیں اس فیصلے کا اطلاق نہیں کرنا چاہتیں ان پر کوئی پابندی نہیں ہے کیونکہ ہم کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کر رہے ہیں‘۔

اس تعطل کا حل نکالنے کے لیے منگل کی صبح کل جماعتی اجلاس طلب کیا گیا تھا لیکن اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

چونکہ یہ پالیسی کا معاملہ ہے لہذا حکومت کے لیے اسے پارلیمان میں منظور کرانا ضروری نہیں ہے لیکن بائیں بازو کی جماعتوں کا الزام ہے کہ پارلیمان کے اجلاس کے دوران حکومت نے اتنا اہم فیصلہ کرکے پارلیمانی روایات کی خلاف ورزی کی ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ فیصلہ کرتے وقت حکومت کو شاید مخالفت کی شدت کا صحیح اندازہ نہیں تھا اور چونکہ پارلیمان کی اکثریت اس فیصلے کے خلاف ہے، اس لیے اس کی مشکلات اور بڑھ گئی ہیں۔

لوک سبھا میں کانگریس کی دو سو سات سیٹیں ہیں اور اس فیصلہ پر صرف دو بڑی پارٹیاں اس کا ساتھ دے رہی ہیں۔ ایک وزیر زراعت شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور دوسری شیرومنی اکالی دل جو پنجاب میں بی جے پی کی اتحادی جماعت ہے۔

فیصلے کی مخالفت کرنے والے میں بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی بھی شامل ہیں جو باہر سے مخلوط حکومت کی حمایت کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت میں شامل ڈی ایم کے اور ترنمول کانگریس بھی کھل کر حکومت کے فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں۔

یعنی حکومت کو تقریباً دو سو بیس اراکین پارلیمان کی حمایت حاصل ہے جبکہ حزب اختلاف کو دو سو تریسٹھ کی۔ باقی باسٹھ اراکین کا موقف واضح نہیں ہے۔

کانگریس پارٹی کے بعض ارکان پارلیمان نے بھی اس فیصلے پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت کا نہ تو یہ فیصلہ درست ہے اور نہ ہی اس کا وقت صحیح ہے۔کانگریس کے ایک رکن سنجے سنگھ نے کہا کہ اس فیصلے سے ملک کے لاکھوں لوگ متاثر ہوں گے اس لیے ایسے فیصلے بہت سوچ سمجھ کر کرنے کے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں