’ ایک پاکستانی سمیت چھ افراد گرفتار‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گرفتار کیےگے افراد کئي کاررائیوں میں ملوث تھے

بھارت میں پولیس نے ملک کے مختلف مقامات سے ایک پاکستانی شہری سمیت شدت پسند تنظیم انڈین مجاہدین کے چھ اراکین کوگرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد دلی، پونا اور بنگلور میں ہوئی دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔

دلی میں محکمۂ پولیس کے سربراہ نےگرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔ ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے دلی پولیس کے کمشنر بی کے گپتا سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہاں یہ صحیح ہے۔

اطلاعات ہیں کہ اس گروپ کا ایک اہم شخص عمران اب بھی فرار ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان گرفتاریوں سے ملک میں ہوئی متعدد دہشتگردی کی کارروائیاں، جو اب تک حل نہیں کی جا سکی تھیں، حل کر لی گئی ہیں۔

یہ گرفتاریاں دلی، مہاراشٹر، چنئی، بہار اور اتر پردیش میں مختلف آپریشن کے دوران کی گئی ہیں اور اس طرح کی کاررائیاں اب بھی کی جارہی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ آپریشن کی ابتداء چنئی میں تفتیش کے بعد شروع ہوئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس دھماکوں کے لیے انڈین مجاہدین کو ذمہ دار بتاتی رہی ہے

دلی پولیس نے اس سلسلے میں ایک بیان جاری کرکےگرفتار شدہ افراد کی تفصیل بتائی ہے۔ بیان کے مطابق جن چھ افراد کو گرفتار کیا گيا ہے ان میں ایک پاکستانی شہری محمد عادل عرف اجمل بھی شامل ہیں۔

ان کے ساتھ ہی بھارتی شہری محمد قتیل صدیقی، غیور احمد جمالی، گوہر عزیز، عبدالرحمن اور ارشاد خان کوگرفتار کیا گيا ہے۔

خبروں کے مطابق محمد عادل عرف اجمل کو جعلی پاسپورٹ کیس میں ممبئی سے گرفتار کیا گيا ہے جبکہ عبدالرحمن اور انجینیئرنگ کے طالب علم ارشاد خان کو چنئی سے پکڑا گيا تھا۔ پولیس کے مطابق محمد قتیل صدیقی اور غیور احمد کو دلی سے گرفتار کیا گيا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ میں جو خبریں نشر کی جارہی ہیں ان کے مطابق ان گرفتاریوں سے پونا کی جرمن بیکری میں ہونے والے بم دھماکے کی گتھیاں بھی سُلجھ گئی ہیں۔ جرمن بیکری میں ہونے والے دھماکے میں سترہ افراد ہلاک اور تقریباً پچاس زخمی ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ دلی کی جامع مسجد میں ہونے والے بم دھماکے اور اس کے باہر سیاحوں پر ہوئی فائرنگ میں ملوث افراد کا بھی سراغ لگائے جانے کے دعوے کیے جارہے ہیں۔

خبروں کے مطابق جن افراد کو گرفتار کیا گيا ہے ان میں بنگلور کے چینا سوامی سٹیڈیم میں دھماکہ کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں