بھارتی پولیس کا ’آپریشن مجنوں‘

فائل فوٹو
Image caption پولیس پارک میں موجود نوجوان جوڑوں کو سزا دیتی ہے

بھارت کے دارالحکومت دلی کے نواحی علاقے صاحب آباد میں آج کل محبت کرنے والے نوجوان جوڑے مشکل میں ہیں کیونکہ پولیس انہیں سرعام نشانہ بنا رہی ہے۔

یہ کارروائی صاحب آباد کے تھانیدار الکا پانڈے کی قیادت میں ہورہی ہے جن کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو ختم کرنا ہے۔

ان کے مطابق وہ ’معصوم لڑکیوں کو ان لڑکوں سے محفوظ رکھنا چاہتی ہیں جن کے ارادے ناپاک ہیں‘۔

الکا پانڈے ٹی وی چینلوں کے کیمروں کے ساتھ پارکوں میں جارہی ہیں اور وہاں اگر کوئی لڑکا اور لڑکی انہیں ساتھ بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں تو لڑکے کو موقع پر ہی ’سزا‘ دی جاتی ہے۔

ٹی وی پر یہ مناظر دکھائے گئے ہیں جن میں الکا پانڈے ایک لڑکے کا کان پکڑ کر اسے کھڑا کرتی ہیں اور پھر اسے ’اٹھک بیٹھک‘ کی سزا دیتی ہیں۔

صاحب آباد کی پولیس نے اس کارروائی کو آپریشن مجنوں کا نام دیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ پولیس اس نوعیت کی کارروائی کر رہی ہے اس سے پہلے میرٹھ، مظفرنگر اور علی گڑھ میں بھی اسی طرح کی مہم چلائی گئی تھی لیکن پولیس کو شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ممبئی اور بنگلور میں قوم پرست تنظیمیں بھی نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ماضی میں نشانہ بنا چکی ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ بھارتی نوجوان مغربی طور طریقوں کو اپنا کر بھارت کی قدیم تہذیب کو بھلا رہے ہیں۔

الکا پانڈے نے اخبار ٹائمز آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ لڑکے معاشرے کی خوبصورتی کو تباہ کررہے ہیں، مجھے انہیں ایک پیغام دینا ہے، سکولوں میں اس طرح کی سزا عام طور پر دی جاتی ہے، اگر ہم یہاں بھی اس پر عمل کریں تو کیا برائی ہے؟‘

ان کا کہنا ہے کہ پولیس کو حکومت کی جانب سے عورتوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت ملی ہے۔’یہاں لڑکیوں کے ساتھ بہت چھیڑ چھاڑ ہوتی ہے اور لڑکیوں کو پھنسانے کے لیے یہ لڑکے سکول کالجوں کے باہر کھڑے رہتے ہیں۔ پارک میں ہم ذہنی سکون کے لیے آتے ہیں اور اگر لڑکا لڑکی کچھ غلط کریں تو وہ خوبصورتی کہاں رہے گی؟ چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کو یہ لوگ پھنسا لیتے ہیں۔‘

غازی آباد کے ایس ایس پی نے ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہوسکتا ہے کہ کچھ افسران نے اختیارات سے تجاوز کیا ہو۔ اگر کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے تو صرف اسی پر توجہ مرکوز مت کیجیے بلکہ خواتین کے تحفظ کے وسیع تر مسئلے کو سمجھیے۔ لیکن ہم کسی بھی شخص کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔‘

اسی بارے میں