سپر بازار سرمایہ کاری کے خلاف ہڑتال

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ reuters
Image caption کابینہ کے فیصلے کے مطابق وال مارٹ جیسے برانڈ بھارت میں کھل سکیں گے

بھارتی حکومت کی طرف سے سپر مارکیٹس میں بیرونی سرمایہ کاری کی اجازت دینے کا جو فیصلہ کیا گيا ہے اس کے خلاف جمعرات کو تاجروں کی طرف سے ایک روزہ ملک گیر ہڑتال کی گئي ہے۔

اس ہڑتال کی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی حمایت کی ہے اور ہڑتال کا ملک کے مختلف حصوں میں ملا جلا اثر دیکھنے کو ملا ہے۔

حکومت نےگزشتہ ہفتے وال مارٹ اور ٹیسکو جیسی بڑی کمپنیوں کی خوردہ کاروبار میں شرکت کی راہ ہموار کرتے ہوئے اس شعبے میں اکیاون فیصد براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دی تھی۔

ہڑتال کے سبب بیشتر دکانیں اور بازار بند رہے۔ اس کا زیادہ اثر سپر مارکیٹس میں دیکھنے کو ملا اور ہول سیل کی بیشتر سپر مارکیٹیں بند ہیں۔

مختلف علاقوں میں تاجروں نے احتجای مظاہرے کیے ہیں اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کے ساتھ ساتھ وزیراعظم منموہن سنگھ کے پتلے جلائےگئے ہیں۔

دلی میں تاجروں کی تنظیم ’ کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز‘ کے صدر نریندر مدان کا کہنا ہے کہ دلی کے بیشتر بازار ر بند رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق صدر بازار، کملا نگر، چاؤڑی بازار، قرول باغ، کشمیری گیٹ، تلک نگر، روہنی، کرشنا نگر جیسے دلی کے بڑے بازاروں سمیت بہت سے دیگر چھوٹے بازار بھی آج نہیں کھلے ہیں۔

لیکن گلیوں میں چھوٹی چھوٹی پرچون کی دکانیں کھلی دیکھی گئی ہیں اسی طرح کھانے پینے کی بھی کچھ دکانیں کھلی ہیں۔

آل انڈیا ٹریڈ ایسی سو ایشن کے جنرل سیکریٹری پروین کھنڈیلوال کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں تقریبا پانچ کروڑ چھوٹے بڑے تاجر ہڑتال میں شامل ہوئے ہیں اور خوردہ بازار میں بیرونی سرمایہ کاری کرنے کے حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے منگل کو دلی میں یوتھ کانگریس کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عندیہ دیا تھا کہ یہ فیصلہ واپس نہیں لیا جائےگا۔

اس فیصلے کی مخالفت کرنے والی جماعتوں کا دعوٰی ہے کہ بڑی کمپنیوں کی آمد سے کسانوں کے استحصال کا سلسلہ شروع ہوگا اور ملک سے چھوٹےکاروبار ختم ہوجائیں گے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ فیصلہ کرتے وقت حکومت کو شاید مخالفت کی شدت کا صحیح اندازہ نہیں تھا اور چونکہ پارلیمان کی اکثریت اس فیصلے کے خلاف ہے، اس لیے اس کی مشکلات اور بڑھ گئی ہیں۔

اسی بارے میں