جھاڑکھنڈ: حملے میں گیارہ پولیس اہلکار ہلاک

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت کی کئی ریاستوں میں ماؤنواز باغیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن جاری ہے۔

بھارت کی مشرقی ریاست جھاڑکھنڈ میں ماؤنواز باغیوں نے ایک رکن پارلیمان کے قافلے پر حملہ کرکے گیارہ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کردیا ہے۔

نامہ نگار سلمان راوی کا کہنا ہے کہ یہ حملہ چترا پارلیمانی حلقے سے لوک سبھا کے آزاد رکن اندر سنگھ نامداھاری کے قافلہ پر شام تقریباً ساڑھے چھ بجے کیا گیا۔

گیارہ پولیس اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ تین افراد کو مقامی لوگوں نے زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا ہے۔

لاتےہار ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈی پی شرما نے اس حملے کی تصدیق کری دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رکن پارلیمان کے قافلے میں پولیس کی دو گاڑیاں آگے آگے چل رہی تھیں جنہیں بم کے دھماکوں سے اڑا دیا گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ باغیوں نے تین دھماکے کیے اور حملے کے بعد پولیس والوں کے ہتھیار لیکر فرار ہوگئے۔ نامہ نگار کے مطابق مسٹر اندر سنگھ محفوظ ہیں۔

چند روز قبل ہی ماؤنواز باغیوں کے سرکردہ رہنما کشن جی کو مغربی بنگال میں ایک آپریشن کے دوران ہلاک کردیا گیا تھا جس کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ باغی انتقامی کارروائی کرسکتے ہیں۔

ملک کی کئی ریاستوں میں ماؤنواز باغیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن جاری ہے۔

بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ملک کی داخلی سلامتی کو سب سے بڑا خطرہ ماؤنواز باغیوں سے ہے اور وزیر داخلہ پی چدمبرم نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے مقابلے میں ماؤنواز باغیوں کے حملوں میں کہیں زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں