’کشمیر میں سیاسی حریفوں کا اتحاد‘

کشمیر میں سمینار کی فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کشمیر میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ریاست میں انسانی حقوقی کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیٰحدگی کی بائیس سالہ تحریک کے دوران حقوقِ انسانی کے عالمی دن پر یہ پہلا موقع تھا کہ ہند نواز سیاسی کارکنوں نے بھی علیٰحدگی پسندانہ لہجہ اخیتار کیا ہے۔

وادی کے تجارتی مرکز لال چوک میں شمالی کشمیر کے رکن اسمبلی عبدالرشید شیخ نے فوج کے خلاف ایک ریلی کی قیادت کی۔

مظاہرین نے فوجی راج نامنظور اور دوسرے فوج مخالف نعرے لگائے۔

اس موقع پر عبدالرشید شیخ نے بھارتی سِول سوسائٹی اور بھارتی قیادت سے اپیل کی کہ ’وہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و جبر کے سلسلے کو روکنے کے لیے آواز بلند کریں۔‘

پولیس نے اس جلوس کو پرامن طریقے سے منتشر کر دیا۔

حقوق انسانی کے عالمی دن کے حوالے سے معروف علیٰحدگی پسند تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف سنیچر کی شام کو مشعل بردار جلوس نکالا اور موم بتیاں جلا کر پرامن احتجاج کیا۔

اس موقع پر لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یٰسین ملک نے حکومت ہند پر الزام عائد کیا کہ اس کے جمہوری ادارے کشمیر میں انصاف کے راستے بند کر رہے ہیں۔

انہوں نے گزشتہ سال ہلاک ہونے والے سو سے زائد کم سن لڑکوں کے حوالے سے عدالت میں دائر کی گئی درخواست کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس درخواست کو مسترد کرنے کا مطلب انصاف کی تلاش کے پرامن راستوں کو محدود کرنا ہے۔

دریں اثناء مقامی وکلاء کی تنظیم کشمیر بار ایسوسی ایشن نے ایک سیمینار کا انعقاد کیا، جس میں وکلا برادری نے عام لوگوں کے مسائل اجاگر کرنے کا عہد کیا۔

وکلاء کی انجمن کے صدر میاں عبدالقیوم نے فوجی قوانین کے خاتمے سے متعلق سیاسی گروپوں کے مطالبوں کو شور شرابہ قرار دیا اور کہا کہ کشمیر کے فوج کا مکمل انخلاء یہاں کے تمام مسائل کا حل ہے۔

میرواعظ عمرفاروق کی سربراہی میں حریت کانفرنس (ع) نے بھی ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس میں مقررین نے ناانصافیوں کی تفصیلات پیش کیں۔

ُاِدھر حقوق انسانی کے ایک کارکن محمد احسن اونتو نے انسانی حقوق کے مقامی کمیشن میں جو درخواست دی تھی اس کے جواب میں کمیشن نے آنسو گیس اور کالی مرچ کے گولے داغنے سے متعلق پولیس سے وضاحت طلب کی ہے۔

قابل ذکر ہے اس سال کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کا مسئلہ سیاسی حلقوں میں مرکزی بحث کا موضوع رہا۔

انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن نے جموں کشمیر میں چار ہزار سے زائد گمنام قبروں کی تصدیق کردی۔

حقوق انسانی کے اداروں کا کہنا ہے کہ ان قبروں میں فرضی جھڑپوں کے دوران قتل کیے گئے کشمیریوں کو ان قبروں میں دفن کیا جاتا تھا۔ مقامی اسمبلی میں بھی انسانی حقوق کے معاملے پر ہنگامہ آرائی ہوئی۔

مبصرین کہتے ہیں کہ ہند نوازوں کی طرف سے انسانی حقوق کے مسئلہ پر احتجاج کرنا یا اس پر بیان بازی کرنا معنی خیز ہے، لیکن علیٰحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ ہندنواز رہنما عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔

اسی بارے میں