’سی بی آئی بھی لوک پال کے دائرے میں‘

اننا ہزارے تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اننا ہزارے گزشتہ کئی ماہ سے احتجاجی مہم چلائے ہوئے ہیں

بھارت میں سرکاری حلقوں میں بدعنوانی کے خلاف روک تھام کے لیے قانون بنانے کا مطالبہ کرنے والے سماجی کارکن انّا ہزارے نے ایک بار پھر دلی میں اجتماعی بھوک ہڑتال کی ہے۔ مختلف سیاسی رہنما انّا کی حمایت میں جنتر منتر پہنچے ہیں۔

اننا ہزارے دلی کے جنتر منتر علاقے میں احتجاج کررہے ہیں۔ انّا ہزارے کی ٹیم کے اہم ممبر اروند کیجریوال نے کانگریس پارٹی اور حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کو لوک پال کے دائرے میں رکھا جائے۔

اس موقع پر حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئیر لیڈر ارون جیٹلی کے علاوہ بائیں بازوں کے بعض لیڈر جنتر منتر پہنچے ہیں۔

ارون جیٹلی نے اپنی خطاب میں کہا ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کو بھی لوک پال کے دائرے میں شامل کیا جائے۔

پارلمیان کے دونوں ایوانوں میں لوک پال بل کے مسودے پر عبوری کمیٹی کی رپورٹ پیش کردی گئی لیکن انّا ہزارے کی ٹیم اس مسودے سے ناخوش ہے۔

انّا ہزارے اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک کے وزير اعظم کو لوک پال بل کے دائرے میں رکھا جائے لیکن حکومت نے اس کی سخت لفظوں میں مخالفت کی ہے۔

اس سے قبل انّا ہزارے نے کہا تھا کہ حکومت نے بدعنوانی کی روک تھام کے لیے اگر پارلیمان کے سرمائی اجلاس میں ایک سخت قانون منظور نہیں کیا تو وہ ان پانچ ریاستوں میں تحریک شروع کریں گے جہاں جلدی ہی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے والے ہیں۔

انّا ہزارے نے اس برس بدعنوانی کے خلاف پہلے اپریل اور پھر اگست کے مہینے میں بھوک ہڑتال کی تھی۔ ان کی تحریک کو ملک میں بڑے پیمانے پر حمایت حاصل ہوئی تھی اور حکومت کو آخرکار ان کا یہ مطالبہ تسلیم کرنا پڑا تھا کہ حکومتی حلقوں میں بدعنوانی کی روک تھام کے لیے ایک سخت قانون وضع کیا جائے۔

انّا ہزارے کی ٹیم کا کہنا ہے حکومت نے جن لوک پل بل کو منظور کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اسے اسی رواں اجلاس میں منظور کیا جا نا چاہیے اور اگر ایسا نہ ہوا تو وہ پھر اپنی مہم شروع کریں گے۔

حکومت اس بل پر بحث کے لیے راضی ہے اور اس اجلاس میں وہ بل زیر بحث آنے والا ہے لیکن ابھی تک یہ پتہ نہیں ہے کہ اسے کب منظور کیا جائےگا۔

اسی بارے میں