کشمیر: وزیر پر حملہ، محافظ ہلاک

Image caption حملے کے بعد علاقہ میں تلاشی مہم شروع کر دی گئی

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں عمر عبداللہ کی حکومت کے سینئر وزیرعلی محمد ساگر اتوار کی شب ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ہیں۔

تاہم اس حملے میں ان کا ایک ذاتی محافظ ہلاک اور ڈرائیور سمیت دیگر تین محافظ زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں ایک عام شہری بھی شامل ہے۔

کشمیر پولیس کے افسر عاشق بخاری کے مطابق یہ حملہ محمد ساگر کی آبائی بستی نواب بازار میں اتوار کی شب اُس وقت ہوا جب وہ اپنی بھتیجی کی منگنی کے سلسلے میں منعقدہ تقریب میں موجود تھے۔

پولیس کے مطابق حملہ کے وقت محمد ساگر اپنے بھائی کے گھر میں مہمانوں کا استقبال کررہے تھے جبکہ ان کی حفاظت پر مامور پولیس گارڑز کا دستہ باہر موجود تھا۔ ایک پولیس افسر نے بتایا ’ہماری اطلاعات کے مطابق ایک تنگ گلی سے صرف ایک مسلح شخص آیا اور اس نے محافظین کو نشانہ بنایا۔‘

اس واردات کے عینی شاہد محمد یونس نے، جو محمد ساگر کے پرسنل سیکرٹری ہیں، بی بی سی کو بتایا ’میں صرف پندرہ میٹر کی دُوری پر تھا۔ میں نے دس سے پندرہ گولیوں کی آوازیں سنیں اور دیکھا کہ لوگ بھاگ رہے ہیں۔‘

کسی بھی عسکری گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم وزیرِداخلہ ناصر اسلم نے بتایا کہ ایک خصوصی تفتیشی ٹیم سراغ لگا رہی ہے اور علاقہ میں تلاشی مہم شروع کی گئی ہے۔ حکام نے نواب بازار اور گردونواح کے علاقوں کو سیل بھی کر دیا۔

علی محمد ساگر حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما ہیں اور پارٹی صدر فاروق عبداللہ کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ وہ پچھلے پندرہ سال سے مسلسل شہر کے خانیار حلقہ سے منتخب ہوتے رہے ہیں۔

قابلِ ذکر ہے پچھلے پندرہ سال میں کم از کم تین وزیر نامعلوم مسلح حملوں میں مارے گئے ہیں۔ عمر عبداللہ کی حکومت کے دوران یہ پہلا واقع پیش آیا ہے کہ کسی وزیرپر مسلح حملہ کیا گیا۔

اسی بارے میں