دلّی کی بطور دارالحکومت صد سالہ تقریبات

فائل فوٹو
Image caption تقریبات میں دلی کی تاریخی تصویروں کی نمائش ہورہی ہے

بھارت کے شہر دلّی کو دارالحکومت کا درجہ دینے کی صد سالہ تقریبات کا سلسلہ پیر سے شروع ہو رہا ہے لیکن بہت زیادہ جوش و خروش نہیں دیکھا جا رہا ہے۔

بارہ دسمبر سنہ انیس سوگيارہ کو اس دور کے ہندوستان کے برطانوی بادشاہ جارج پنجم نے کولکتہ سے دارالحکومت کو دلی منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ان تقریبات کے تحت جنوری سے آئندہ پورے سال میں کئی اقسام کے فیسٹیول اور نمائشوں کا انعقاد کیا جائیگا۔

لیکن اس تنازع کے درمیان کہ اس یادگار کو منانے کا مطلب کلونیلزم کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوسکتا ہے، سرکاری سطح پر کسی بھی طرح کی تقریبات کا کوئي منصوبہ نہیں ہے۔

دلّی: تاریخی مقامات کا ماضی اور حال

دلّی: برطانوی راج میں فنِ تعمیر

پیر کے روز دلّی میں ایک نمائش میں تاریخی تصاویر اور تحاریر کو پیش کیا گيا۔ اس سلسلے میں ایک کتاب، ریڈ فورٹ ٹو رائےسینا یعنی لال قلعہ سے رائے سینا روڈ تک کا بھی اجراء کیا جارہا ہے۔

اس موقع پر دلّی شہر کی تہذیب و ثقافت اور شہر سے متعلق مختلف طرح کی تبدیلیوں پر مبنی کئي کتابیں شائع کی جارہی ہیں اور طرح طرح کے کھانوں کے نمائشیں بھی منعقد کی جارہی ہیں۔

لیکن بہت سے بھارتی ان تقریبات کو بہت زيادہ اہمیت نہیں دے رہے ہیں اور بیشتر بھارتی اخبارات نے بھی اس خبر کو اپنے پہلے صفحہ پر جگہ نہیں دی ہے۔

کئی افراد اس طرح کے سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایسی تقریبات کا کیا فائدہ جب شہر میں بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے کوئي کوشش ہی نہیں کی گئی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گزشتہ ایک سو برس میں دلی شہر دوسرے میٹرو کی طرح بہت تیزی سے پھیلا ہے

شہری منصوبہ بندی کے معروف ماہر آرکیٹیکٹ کلدیپ سنگھ نے اس بارے میں انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ’برسوں سے دلی کو بدلتے ہوئے دیکھتا رہا ہوں کہ وہ اپنی رونق کھوتی جارہی ہے تو میرے خیال سے تقریبات منانے کا یہ نظریہ بڑے طبقے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو عام لوگوں کی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتا۔‘

کلدیپ سنگھ کا کہنا تھا کہ شہر کے قیمتی آثار قدیمہ کے ساتھ سمجھوتہ کیا گيا اور ’چونکہ شہر میں ٹوائلٹ مہیا نہیں کیے گيے ہیں، اس لیے ڈیڑھ لاکھ خواتین صبح طلوع آفتاب سے پہلے کھلے میدان میں رفعِ حاجت کے لیے مجبور ہیں۔‘

انیس سو گيارہ میں کولکتہ سے دلی میں دارالحکومت کو منتقل کرنے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ دارالحکومت کو ملک کے مرکز میں ہونا چاہیے۔ لیکن کولکتہ میں ڈیڑھ سو برس گزرنے کے ساتھ ہی برطانوی راج کی مخالفت میں اضافہ بھی ایک وجہ تھی۔

گزشتہ ایک سو برس میں دلّی شہر دوسرے میٹرو کی طرح بہت تیزی سے پھیلا ہے۔ انیس سو گيارہ میں دو لاکھ تینتیس ہزار کی آبادی والے اس شہر میں اب مضافات کے علاقوں سمیت دو کروڑ سے زيادہ لوگ بستے ہیں۔

یہ بھارت کا دارالحکومت ہے جہاں پارلیمنٹ اور ایوان صدر بھی واقع ہیں۔ شہر اب ایک بڑا تجارتی مرکز ہے اور ایک حالیہ جائزے کے مطابق دلی میں روزگار کے زیادہ مواقعوں کے سبب نقل مکانی کرنے والے سب سے زیادہ دلی کا رخ کرتے ہیں۔

شہر اپنی تہذیبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے بھی جانا جاتا ہے جہاں تقریباً ایک ہزار قدیم ورثہ کی عمارتیں، رقص، ڈراموں کے انسٹی ٹیوٹ، آرٹ گیلریز اور کتابوں کے مراکز ہیں۔

لیکن دلی میں بہت زیادہ گاڑیوں اور ناکارہ سڑکوں کے سبب ٹریفک کا نظام درہم برہم رہتا ہے۔ سڑک پر تشدد کے واقعات عام ہیں اور فضائی آلودگي تو دلی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔

میٹرو ریل سروس نے لوگوں کی کچھ مشکلیں ضرور حل کی ہیں لیکن دنیا کے بہترین شہروں کے مقابلے میں دلی اب بھی ترقی پذیر ممالک کی جھلک پیش کرتا ہے جہاں بنیادی سہولیات کی کمی نظر آتی ہے۔

اسی بارے میں