بھارت: روپے کی قیمت میں ریکارڈ کمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈالر کے مہنگے ہونے کے سبب بھارتی معیشت پر اثر پڑھ رہا ہے

یورپی معاشی بحران اور ملکی صورتحال کے پیش نظر بھارتی روپے کی قیمت تیزی سےگرتی جا رہی ہے اور اس وقت وہ ڈالر کے مقابلے ترپن روپے چالیس پیسے تک نیچے آ گیا ہے۔

اب تک ڈالر کے مقابلے روپے میں یہ سب زیادہ کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قیمت گرنے سے معیشت کے دوسرے شعبوں پر بھی اثر پڑےگا۔

برآمدات کرنے والے بڑے تاجروں اور بینکوں کی طرف سے امریکی کرنسی ڈالر کی مستقل مانگ بڑھتی جا رہی ہے اور روپے کی قدر میں مزید کمی کی یہی بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔

پیر کے روز ایک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی تقریباً باون روپے پچاسی پیسے قیمت تھی لیکن منگل کے روز یہ تقریباً ساڑھے ترپن روپے تک گر گئي۔

بھارت میں پچھلے ڈیڑھ برس کے دوران ریزرو بینک آف انڈیا نے تیرہ مرتبہ شرح سود میں اضافہ کیا ہے لیکن اس کے باوجود افراطِ زر میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور یہ اوسطاً دس فیصد کے آس پاس ہی رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈآلر کے مقابلے بھارتی روپے ميں مستقل گرواٹ آرہی ہے

روپے کی قیمت گرنے سے کھانے پینے کی اشیاء مزید مہنگی ہوں گی کیونکہ بھارت کو اپنی درآمدات کے لیے اب زیادہ پیسے ادا کرنے ہوں گے۔

ستمبر دو ہزار نو میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت باون روپے بیس پیسے تک نیچے آئی تھی لیکن وہ بہت مختصر وقت کے لیے تھی۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار یہ قیمت مزید نیچے جا سکتی ہے۔

بھارتی روپیہ اس برس ایشیاء کی سب سے کمزور کرنسی ثابت ہوا ہے۔ گزشتہ جولائی سے روپے کی قیمت میں پندرہ فیصد سے زیادہ کمی ہو چکی ہے۔

روپے کی قیمت گرنے کا مطلب ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار بھارت سے اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں اور بھارت میں درآمدات کرنے والوں میں ڈالر کی مانگ بڑھ رہی ہے۔

روپے کی گرتی قیمت کا ایک پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ غیر ممالک میں مقیم بھارتیوں نے اچھی قیمت ملنے کے سبب گزشتہ تین مہینے میں اکیس ارب ڈالر بھارت بھیجے ہیں۔ اس رقم کا ایک بڑا حصہ غیر مقیم عام بچت اکاؤنٹ میں جمع کیا گیا ہے جس پر بھارتی بینک سالانہ دس فیصد تک سود دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں