بھارتی پارلیمان میں کالے دھن پر بحث

پرنب مکھرجی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت کے ساتھ باہمی معاہدے کے اطلاق سے پہلے معلومات ملنی مشکل ہیں

بھارت کے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے ان الزمات کو مسترد کیا ہے کہ حکومت نے بیرون ملک بینکوں میں غیر قانونی طور پر جمع بھارتی شہریوں کا پیسہ واپس لانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے ہیں۔

وہ بیرونی ملک کی بینکوں سے یہ رقم واپس لانے کے سوال پر لوک سبھا میں بحث کا جواب دے رہے تھے۔

اس بحث کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے التوا کی تحریک پیش کی تھی۔ لیکن ووٹنگ کے لیے پیش کی جانے والی قرارداد کے متن پر حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان پہلے ہی اتفاق ہوگیا تھا اور اس میں سے حکومت کی سرزنش کا پہلوں ختم کر دیا گیا تھا۔

بحث کا آغاز کرتے ہوئے مسٹر اڈوانی نے کہا کہ حکومت نے بیرون ملک سے کالا دھن واپس لانے کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے ہیں اور اب تک غیر ملکی بینکوں اور حکومتوں سے اسے جو نام حاصل ہوئے ہیں انہیں بھی راز میں رکھا جا رہا ہے۔

مسٹر اڈوانی نے کہا کہ حکومت کو یہ نام ظاہر کر دینے چاہئیں اس سے پہلے کہ راز افشا کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ یہ کام انجام دیں۔ جولین اسانژ کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس ان بھارتی شہریوں کی فہرست موجود ہے جنہوں نے غیر ملکی بینکوں میں غیر قانونی طور پر پیسہ جمع کرا رکھا ہے۔

لیکن جواب میں پرنب مکھرجی نے کہا کہ غیر ملکی حکومتوں سے معلومات حاصل کرنے میں بہت سی قانونی رکاوٹیں حائل ہیں اور خاص طور پر سوئزر لینڈ کی حکومت بھارت کے ساتھ باہمی معاہدے کے اطلاق سے پہلے کی کوئی معلومات فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوئزرلینڈ کی جانب سے دنیا کے کسی ملک کو معاہدے سے پہلے کی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے۔

مسٹر اڈوانی نے دعویٰ کیا کہ غیر ملکی بینکوں میں بھارتی شہریوں نے پچیس لاکھ کروڑ روپے جمع کر رکھے ہیں اور اگر یہ رقم واپس لائی جاسکے تو ملک کے ہر گاؤں کا حلیہ بدل سکتا ہے۔

لیکن پرنب مکھرجی کا کہنا تھا کہ اس بارے میں کوئی قابل اعتبار اعداد و شمار دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے انہوں نے یہ ذمہ داری اب تین مختلف اداروں کے سپرد کی ہے۔ ’ان کی رپورٹ آتے ہیں یہ معلومات پارلیمان کو فراہم کی جائے گی۔’

بینکوں میں رقم جمع کرانے والے لوگوں کے نام ظاہر کرنے کے مطالبے پر انہوں نے کہا کہ نام جاری کرنے سے یہ لوگ کھاتوں سے رقم نکال لیں گے اور پھر رقم کی بازیابی ناممکن ہوجائے گی۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے جنتا دل یونائٹڈ کے لیڈر شرد یادو نے کہا کہ دراصل کسی کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ یہ رقم کتنی ہے۔

’کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم منگیری لال کے حیسین سپنے دیکھ رہے ہوں؟ (ایک ٹی وی سیرئل جس کے مرکزی کردار منگیری لال کو حسین خواب دیکھنےکی عادت تھی)۔۔۔اس مرتبہ حقیقت واضح کر دیجیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔’

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پارلیمان میں تحریک التوا اڈوانی نے پیش کی تھی

بہار کے سابق وزیراعلی لالو پرساد یادو نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ ’حکومت کیوں بے وجہ مسٹر اڈوانی کو تکلیف دے رہی ہے، انہیں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اس عمر میں بھی رتھ یاترا کرنی پڑ رہی ہے۔۔لہذا حکومت کو فوراً یہ فہرست جاری کردینی چاہیے تاکہ سیاست دانوں کو بھی بدعنوانی کے الزامات سے نجات حاصل ہوسکے۔’

کانگریس کے منیش تیواری کا کہنا تھا کہ جتنا بڑا مسئلہ بیرون ملک بینکوں میں جمع کالا دھن ہے، ملک کے اندر بھی ٹیکس کی چوری اتنا ہی سنگین مسئلہ ہے جس کا بھارتیہ جنتا پارٹی ذکر نہیں کرتی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے دور اقتدار میں کئی ایسے قوانین میں نرمی کی گئی تھی جس سے کالے دھن کا پتہ لگانا یا ٹیکس چوری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا مشکل ہوا ہے۔

کالے دھن کے مسئلے پر سپیرم کورٹ نے بھی سخت رویہ اختیار کیا ہے الزامات کی تفتیش کے لیے ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے حال ہی میں کہا تھا کہ کالا پیسہ واپس لانے میں حکومت نے مستعدی سے کام نہیں لیا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کالے دھن کے الزامات کی تفتیش میں حکومت کی طرف سے تاخیر ہوئی ہے جو قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

لیکن عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ ان لوگوں کے نام جاری نہیں کیے جائیں گے جن کے خلاف کوئی تفتیش نہیں ہوئی ہے چاہے انہوں نے بیرون ملک بینکوں میں رقم جمع کرائی ہو۔

اسی بارے میں