’رپورٹ عام کرنے سے ملکی سلامتی کو خطرہ‘

Image caption مذاکرات کار علیٰحدگی پسند قیادت کے ساتھ رسمی بات چیت کرنے میں ناکام رہے تھے

بھارتی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ مذاکرات کاروں نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے متعلق جو رپورٹ تیار کی ہے اسے حکومت نے یہ کہہ عام کرنے سے منع کر دیا ہے کہ اس سے ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

بھارت کی وزارت داخلہ نے ایک کشمیری رضاکار ڈاکٹر راجہ مظفر کی عرضی کے جواب میں لکھا ہے کہ حق معلومات کے تحت مذکرات کاروں کی جو رپورٹ طلب کی گئی ہے اسے جاری کیا گیا تو ملک کی سالمیت، یکجہتی اور اس کا اقتدار اعلیٰ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ حق معلومات کے قانون کی دفعہ آٹھ کے تحت کوئی بھی ایسی اطلاع عوام کو فراہم نہیں کی جاسکتی جس سے ملک کی سلامتی یا اقتدار اعلیٰ کو خطرہ درپیش ہو۔

اس رپورٹ کے لیے درخواست دینے والے راجہ مظفر نے سوال کھڑا کیا ہے کہ ایک عوامی مسئلے کا حل ڈھونڈنے والی رپورٹ اگر ملک کے لیے خطرہ ہے تو اس کی تجاویز کو عوام تک کیسے پہنچایا جائےگا؟

ڈاکٹر مظفر کہتے ہیں کہ ’سال بھر مذاکرات کاروں نے سینکڑوں لوگوں سے ملاقاتیں کیں، کروڑوں روپے خرچ کیےگئے اور میڈیا میں بھی شورشرابہ ہوا۔ آج حکومت کہتی ہے کہ رپورٹ ظاہر کی گئی تو بھارت کی سلامتی اور یکجہتی کو خطرہ ہے۔ اگر خطرہ ہے تو یہ رپورٹ سامنے کیسے لائی جائے گی‘۔

مسٹر مظفر کہتے ہیں کہ وزارت داخلہ کے ساتھ رابطہ کرنے کے بعد وہ حکومت ہند کے خلاف مرکزی انفارمیشن کمیشن میں شکایت درج کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ پانچ ماہ کی احتجاجی تحریک اور درجنوں ہلاکتوں کے بعد اکتوبر دو ہزار دس میں حکومت ہند نے صحافی دلیپ پڈگاؤنکر، سابق انفامیشن کمشنر ایم ایم انصاری اور پروفیسر رادھاکمار پر مشمل ایک تین رکنی مذاکرتی ٹیم کو کشمیر بھیجا اور اعلان کیا کہ ایک سال تک عوام کے مختلف طبقوں اور سیاسی گروپوں کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد یہ گروپ تجاویز پر مبنی رپورٹ حکومت ہند کو پیش کرے گا۔

واضح رہے کہ مذاکرات کار یہاں کی علیٰحدگی پسند قیادت کے ساتھ رسمی بات چیت کرنے میں ناکام ہوئے تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ علیٰحدگی پسندوں کی تجاویز کو بھی رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ کے حوالے سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مسلح شدت پسند سے نمٹنے کے بجائے پاکستان اور علیٰحدگی پسندوں کی خوشنودی کررہی ہے۔

اسی بارے میں