کسانوں کی خودکشیوں پر رپورٹ طلب

Image caption بھارت میں کسان اکثر غربت کے سبب خود کشی کرتے ہیں

بھارت میں انسانی حقوق کے ادارے ’ہیومن رائٹس کمیشن‘ نے کسانوں کی خودکشی سے متعلق ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں پر تین ریاستوں سے رپورٹ طلب کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ریاست آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور کیرالہ میں گزشتہ ایک برس میں آٹھ سو کاشتکاروں نے خودکشی کی ہے۔

ان بیشتر خودکشیوں کے لیے عام طور پر غربت، قرض، قیمتوں میں اضافہ اور فصلوں کی تباہی جیسی وجوہات کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت کے انسانی حقوق کے کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر یہ خبریں درست تو پھر’یہ غریب کسانوں کے انسانی حقوق کی شدید قسم کی پامالی ہے‘۔

بھارت میں سنہ انیس سو ستانوے سے اب تک تقریباً دو لاکھ کسانوں نے خودکشی کی ہے۔

باور کیا جاتا ہے کہ مختلف علاقوں میں سوکھے کی صورت حال، فصلوں کی گرتی قیمتیں اور کھیتی کرنے میں زیادہ لاگت آنے کے سبب کسان کافی پریشان رہے ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع خبروں کے مطابق ریاست مہاراشٹر میں اس برس چھ سو اسّی کسانوں نے خود کشی کی ہے۔

جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں اٹھانوے کاشتکاروں نے اپنی جان لی جبکہ کئی ایک نے ریاست کیرالہ میں بھی خود کشی کی ہے۔

عام طور غریب کسان کاشتکاری کے لیے مقامی صاحبِ ثروت افراد سے قرض لیتے ہیں جس میں سود کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔ بعدازاں پیداوار کی کمی یا فصلوں سے لاگت پوری نہ ہونے کے سبب یہ کسان قرض ادا نہیں کر پاتے ہیں اور مزید قرض کی دلدل میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں۔

حکومت نے سنہ دو ہزار آٹھ میں کسانوں کا تقریباً ساٹھ ہزار کروڑ روپے کا قرض معاف کیا تھا۔

اسی بارے میں