سونیا گاندھی لوک پال بل کی حامی

 سونیا گاندھی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سونیا گاندھی نے نئے لوک پال بل کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے

بھارتی کابینہ نے بدعنوانی سے متعلق جس نئے لوک پال بل کو منظور کیا ہے، سونیا گاندھی نے بھی اس کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کے لیے جدوجہد کریں گی۔

کابینہ نے لوک پال بل کو گزشتہ رات منظور کیا تھا جس کے بعد سے بعض سیاسی جماعتوں اور انا ہزاے کی ٹیم کی طرف سے اس بل پر نکتہ چینی ہو رہی ہے۔

لیکن بدھ کی صبح کانگریس پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی سے خطاب میں مجترمہ گاندھی نے کہا کہ وہ لوک پال اور خواتین کے لیے ریزرویشن سے متعلق بل کے لیے لڑیں گي۔

یہ پہلا موقع ہے کہ لوک پال جیسے متنازعہ مسئلے پر سونیا گاندھی کھل کر بات کی ہو اور انّا ہزارے کی ٹیم کو چیلنج کیا ہو۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق سونیا گاندھی نے کہا ’میں لوک پال اور خواتین کے لیے ریزرویشن جیسے دونوں بلوں کے لیے لڑوں گی۔ مجھے اس معاملے میں شکست کی کوئي وجہ نظر نہیں آتی۔ بدعنوانی سے نہ نمٹ پانے کے حوالے سے ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ہم پر حملے ہورہے ہیں۔ بد قسمتی سے اس بارے میں دانستہ طور غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائےگي اور اس سلسلے میں قوانین بھی بنائے جائیں گے۔

سونیا گاندھی نے اس موقع پر اپوزیشن پارٹی بی جے پی پر سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ حکومت پارلیمنٹ میں کسی بھی مسئلے پر بحث کے لیے تیار تھی اور ہے لیکن بی جے پی بحث کے بجائے ہنگامہ کرنے پر تلی رہتی ہے۔

بد عنوانی سے نمٹنے کے لیے لوک پال جیسے قانون کے لیے مہم چلانے والے سماجی کار کن انا ہزارے نے کابینہ سے منظور کردہ بل کو بہت کمزور قرار دیا ہے۔ ان کے بقول ’ یہ بل تو بدعنوان وزیرں کو بچانے کے لیے لایا جا رہا ہے اور آخر سی بی آئی کو اس کے دائرے سے کیون باہر رکھا جا رہا ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ستائیس دسمبر سے اس کے خلاف پھر سے بطور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔

کابینہ سے منظوری کے بعد امکان اس بات کا ہے کہ جمعرات کے روز لوک پال بل کو پارلیمان میں پیش کیا جائے لیکن ابھی اس بارے میں غیر یقینی کی صورت حال برقرار ہے کہ اسے کب منظور کیا جائیگا۔

گزشتہ روز اس کے لیے پارلیمان کے اجلاس میں توسیع کی بات کہی گئی تھی اور ایسا لگتا تھا کہ اسی اجلاس میں اسے منظور کر لیا جائےگا۔

لیکن کئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس پر باضابطہ بحث کی ضرورت ہے اور جلد بازی میں کوئی بھی فیصلہ درست نہیں ہوگا۔ لیکن کچھ جماعتوں نے اسی اجلاس میں اسے منظور کرنے کی حمایت کی ہے۔

اکثر جماعتوں کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی نیا بل ملا نہیں ہے اور اس پر جائزہ لینے کے بعد ہی وہ اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں گے لیکن اس کی کئي متنازعہ شقیں میڈیا میں ظاہر ہوئی جس پر بحث جاری ہے۔

اسی بارے میں