لوک پال بل بھارتی پارلیمان میں

Image caption اپوزیشن جماعتیں بل کی مخالفت کر رہی ہیں

بھارت میں بدعنوانی کے خلاف ایک موثر قانون بنانے کی غرض سے معروف لوک پال بل کو پارلیمان میں زبردست ہنگامے کے درمیان پیش کر دیا گیا ہے۔

نئے بل کو کابینہ نے پہلے ہی منظور کر لیا تھا لیکن پارلیمان میں کئی سیاسی جماعتوں نے اس پر سخت اعتراض کیے ہیں اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں حزب اختلاف کی رہنما سشما سوارج نے کہا کہ اس بل میں ’پچاس فیصد سے زیادہ اور مذہب کے نام پر ریزرویشن‘ کی شقیں غیر آئینی ہیں اس لیے اس پر از سر نو کام کرنے کی ضرورت ہے اور تصحیح کے بعد اسے پیش کیا جائے۔

اس کا جواب دیتے ہوئے حکمراں جماعت کے رہنما پرنب مکھرجی نے کہا کہ پارلیمان میں ارکان کا کام مسودے پر بحث کر کے آئین کے دائرے میں قانون سازی کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’قانون آئین سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ عدلیہ کرتی ہے اور ماضی میں بھی ایسا کئی بار ہوا کہ پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کیے گئے قوانین کو سپریم کورٹ نے غیر آئینی بتاکر انہیں ختم کردیا ہے۔ ہمیں اس ہاؤس میں عدلیہ کا کام نہیں کرنا چاہیے‘۔

راشٹریہ جنتا دل کے رہنما لالو پرساد یادو نے بھی اس بل پر سخت الفاظ میں نکتہ چینی کی اور کہا کہ یہ بدعنوانی سے متعلق قانون کو جلد بازی میں منظور نہیں کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت میں اگر اس بل کو منظور کر لیا گيا تو اس سے انتظامیہ کے اختیارات متاثر ہونگے اس لیے اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے کے سینیئر رہمنا یشونت سنہا نے کہا کہ حکومت کا بل خامیوں سے پر ہے اور اس نے بغیر ضروری کام کیے ہی اسے ایوان پر تھوپ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے اس بل کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ خود کنفیوژڈ ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کے رہنما گروداس داس گپتا نے اس موقع پر انّا ہزاے پر سخت نکتہ چینی کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بھارت کے بابائے قوم صرف مہتما گاندھی ہیں کسی دوسرے شخص کو یہ جگہ نہیں لینے دینی چاہیے۔ یہ میڈیا کے سبب ہورہا ہے اور میڈیا کے پیچھے کارپوریٹ لابی کام کر رہی ہے‘۔

آخر میں وزیرخزانہ پرنب مکھرجی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس بل پر کافی دنوں سے کام ہوتا رہا اور قوم عشروں سے اس کا انتظار کرتی رہی ہے اس لیے اس میں مزید تاخیر کی گنجائش کم ہے۔

انہوں نے کہا ’اس میں کیا تبدیلیاں کرنی چاہیں، منظور کیا جائے یا نہیں۔ اور اسے پیش کرنے دیں، ارکان کو بحث کرنا ہے کہ وہ اسے منظور کر تےہیں یا پھر مسترد کر دیتے ہیں‘۔ اس کے بعد بل کو باقاعدہ طور پر ایوان میں پیش کر دیا گیا۔

لوک پال بل میں اقلیتوں سمیت پچاس فیصد کے ریزرویشن کی بات کی گئی ہے جس کی کئی جماعتوں نے حمایت کی ہے۔ لیکن بی جے پی نے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔

سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد نے بھی اس سلسلے میں ایک بیان جاری کرکے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی مخالفت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں