کشمیر: شدت پسندی میں ریکارڈ کمی

Image caption تشدد کے واقعات کے بارے میں فوج اور مقامی پولیس کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی پولیس نے دو ہزار گیارہ کو ’نہایت پرسکون‘ سال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسندی کے واقعات میں ستاسی فیصد کمی ریکارڑ کی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق اکیس سال کی مسلح شورش کے دوران یہ ایک ریکارڈ کمی ہے۔

سری نگر میں نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق جمعہ کے روز نئے سال کے پیغام میں کشمیر پولیس کے سربراہ کلدیپ کھڈا نے کہا کہ ’دو ہزار چھ میں دہشت گردی کے ایک ہزار چار سو اڑتیس واقعات رونما ہوئے جبکہ اس کے مقابلے میں رواں سال صرف ایک سو نوے واقعات پیش آئے۔‘

پولیس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پانچ سال کے دوران مسلح تشدد کی سطح میں ستاسی فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔

مسٹر کھڈا نے پیغام میں دو ہزار گیارہ کے دوران امن قائم کرنے پر محکمہ پولیس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو منظم اور مضبوط کرنے سے ہی شورش کا مقابلہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف دو ہزار گیارہ کے دوران پولیس کے مختلف شعبوں میں چھہ ہزار تین سو بیالیس اہلکاروں کو انسداد شورش کی خصوصی تربیت کے لیے منتخب کیا گیا جبکہ چار سو چون افسروں کو ریاست سے باہر خصوصی تربیت کے لیے بھیجا گیا۔

ڈی جی پی کا کہنا ہے کہ رواں سال چوراسی پولیس افسروں اور چھ ہزار دو سو پچپن ہیڈ کانسٹیبلز کو پولیس میں بھرتی کیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال کی احتجاجی شورش کو دبانے کے لیے پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی بھاری تعداد شہروں اور قصبوں میں تعینات کی گئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق اس سال ہر ضلع میں ایک ہزار اضافی نفری تعینات کی گئی تھی تاکہ پچھلے سال کی احتجاجی لہر دوبارہ پیدا نہ ہو سکے۔صرف سرینگر میں دس ہزار اضافی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔

پولیس سربراہ کا کہنا ہےکہ’دو ہزار گیارہ کا سال ایک پُرامن اور اتنا خوشگوار سال ثابت ہوا کہ عسکریت پسندی کی دو دہائیوں کے دوران لوگوں کو جو مشکلات پیش آئی تھیں، اس سال کے دوران انہیں کافی سکون ملا اور امید کی ایک نئی کرن نظر آئی۔‘

واضح رہے کہ تشدد کے واقعات کے بارے میں فوج اور مقامی پولیس کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

یہ اختلاف پچھلے دنوں اُس وقت کھل کر سامنے آیا جب وزیراعلیٰ کشمیر عمرعبداللہ نے فوج کو حاصل قانونی اختیارات کے خاتمے کا اعلان کیا۔

فوج کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول کنٹرول سے در اندازی کا خطرہ موجود ہے لہٰذا آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ کو ختم نہیں جا سکتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پولیس کے یہ اعداد وشمار اس ایکٹ کو ختم کرنے کے مطالبے کے تناظر میں معنی خیز ہیں۔

اسی بارے میں