انوج قتل: برطانوی پولیس بھارت آئے گی

انوج بدوے تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption انوج بدوے کے والدین کا کہنا ہے انہیں اپنے بیٹے کی لاش کا انتظار ہے

برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں قتل ہونے والے بھارتی طالب علم انوج بدوے کے قتل کے سلسلے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے برطانوی پولیس کی ایک ٹیم بھارت آئے گی۔

برطانوی پولیس کے ایک اعلی اہلکار رس جیکسن اور ان کے ایک ساتھی افسر انوج بدوے کے والدین اور بھارتی اہلکاروں سے ملاقات کریں گے۔

برطانوی پولیس کے ایک اہلکار نے کہا ہے ’ہمارے اہلکار انوج کے خاندان سے رابطے میں ہیں لیکن ایسے حالات میں فون پر معلومات حاصل کرنا کافی مشکل ہوتا ہے‘۔

پولیس ابھی تک انوج کے قتل کی وجوہات معلوم نہیں کر پائی ہے۔

وہیں انوج کے والدین کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ ان کے بیٹے کی لاش انہیں کب ملے گی۔

اس بارے میں انہوں نے ہندوستان کے وزیرِ خارجہ ایس ایم کرشنا سے بھی اپیل کی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز برطانیہ میں پولیس نے اس بات کی تصدیق کی تھی انوج کے قتل کی خبر ان کے رابطہ کرنے سے قبل ہی مقتول کے والدین تک فیس بک کے ذریعے پہنچ گئی تھی۔

حالانکہ پولیس کا کہنا تھا کہ حکام نے انوج بدوے کے اہلِخانہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

انوج کو پیر کو سیلفرڈ میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ لنكاسٹر یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم انوج اپنے آٹھ دوستوں کے ساتھ سیلفرڈ میں کرسمس کی چھٹیاں گزار رہے تھے کہ سڑک پر اچانک سامنے سے آنے والے دو افراد نے ان بھارتی طلباء سے کچھ لمحات بات چیت کی اور پھر ان میں سے ایک نے انوج بدوے کی كنپٹي پر گولی مار دی۔

پونے سے بی بی سی سے بات چیت میں انوج کے والد نے کہا کہ ان کا بیٹا ایک مہذب، شائستہ مزاج کا مالک لڑکا تھا اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسے کیوں مارا گیا۔

سبھاش بدوے نے کہا کہ ان کی ترجیح انوج کی لاش جلد سے جلد بھارت لانا ہے لیکن برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش کے اس مرحلے پر لاش نہیں دے سکتی لیکن خاندان کی خواہشات کا احترام کرنے کے لیے وہ ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔

پولیس اس قتل کو ایک نفرت پر مبنی جرم مان رہی ہے اور قتل کے محرک کے طور پر نسل پرستی کے جذبے سے انکار نہیں کر رہی۔

قتل کے سلسلے میں حراست میں لیے گئے تین نوجوانوں کو ضمانت پر چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ دو ابھی حراست میں ہی ہیں۔

اسی بارے میں