’امریکہ مخالف جذبات بھڑک سکتے ہیں‘

ڈاکٹر غلام نبی فائی تصویر کے کاپی رائٹ KAC
Image caption علیٰحدگی پسندوں نے ڈاکٹر غلام نبی فائی کے حق میں الگ الگ محاذوں پر مہم چھیڑ دی ہے۔

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں امریکہ میں زیرِ حراست کشمیری لابِیئسٹ ڈاکٹر غلام نبی فائی کے حق میں چلائی جانے والی مہم میں تیزی آ رہی ہے۔

ڈاکٹر فائی کو پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے مالی روابط کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ امریکی سرزمین پر امریکی حکام کی اجازت کے بغیر پاکستان کے سفارتی مفادات کی آبیاری کرتے تھے۔

اب یہ معاملہ امریکی عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور مارچ میں اس کا فیصلہ متوقع ہے۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیٰحدگی پسندوں نے ڈاکٹر غلام نبی فائی کے حق میں الگ الگ محاذوں پر مہم چھیڑ دی ہے۔

اس سلسلے میں سینیچر کو ایک سیمینار کے دوران معروف علیٰحدگی پسند رہنما یٰسین ملک نے کہا کہ اگر امریکہ نے ڈاکٹر فائی کیس پر نظرثانی نہیں کی تو کشمیر میں امریکہ مخالف جذبات بھڑک سکتے ہیں۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے اہتمام سے منعقدہ اس سیمینار سے خطاب کے دوران یٰسین ملک نے کہا ک ’ کشمیریوں نے عدم تشدد کا مظاہرہ کیا ہے۔ امریکہ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ڈاکٹر فائی انتہاپسند نہیں، وہ تو علاقائی امن کے لئےمسلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتے تھے۔ اگر ایسے شخص کو سزا دی گئی تو کشمیر میں انتہاپسند مضبوط ہوں گے‘۔

ڈاکٹر فائی کے حق میں ایک ہفتے کے اندر یہ دوسرا سیمینار ہے۔ اس سے قبل معروف علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کی حریت کانفرنس نے اس حوالے سے ایک روزہ سیمینار منعقد کیا تھا۔

لبریشن فرنٹ کے سیمینار میں مقریرین نے ڈاکٹر فائی کو امن کا پیامبر قرار دیا اور کہا کہ وہ انتہاپسند نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی خاطر مغربی ممالک میں رائے عامہ ہموار کرتے تھے۔

یٰسین ملک نے کہا کہ کشمیری دانشوروں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے ڈاکٹر فائی کے حق میں جو قرارداد منظور کی ہے اسے امریکی حکام اور دنیا کے مختلف ممالک کے سفیروں کو ارسال کیا جائے گیا۔

نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں عالمی سطح پر دستخطی مہم شروع کررہے ہیں تاکہ مارچ سے پہلے امریکی حکام ڈاکٹر فائی پر لگے الزامات واپس لے لیں۔

بعض مقررین نے امریکی انتظامیہ کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ہی بنائے اصولوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا رہا ہے۔

عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت حُسین نے اس موقع پر کہا کہ امریکہ نے کبھی بھی قانون کی پاسداری نہیں کی۔ ’امریکہ نے گوانتانامو میں لوگوں کو قید رکھا ، کیا وہ قانونی تھا، امریکہ نے اپنی ہی سرزمین پر حقوق کی لڑائی لڑنے والوں کو جیل میں ڈال دیا کیا وہ قانونی تھا۔ عالمی عدالت میں امریکہ کے خلاف کیس بھی کیا گیا ، کیا ہوا ، کچھ نہیں‘۔

مقررین کا کہنا تھا کہ امریکہ نے طالبان کا ختم کرنے کے لیے جنگ کا آغاز کیا اور اب طالبان کو اقتدار سونپنے کے لیے مذاکرات کئے جارہے ہیں۔

قابل ذکر ہے امریکہ اور یورپ میں کئی کشمیری دانشور سرگرم ہیں اور کشمیریوں کے مطالبہ حق خودارادیت پر مغربی رائے عامہ ہموار کرتے ہیں۔ بھارت میں اکثر حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ ان سبھی سرگرمیوں کے لیے پاکستان براہ راست مالی معاونت کرتا ہے۔

اسی بارے میں