انوج قتل: برطانوی شہری کے خلاف مقدمہ درج

انوج بدوے تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption انوج بدوے کے والدین کا کہنا ہے انہیں اپنے بیٹے کی لاش کا انتظار ہے

برطانوی پولیس نے مانچسٹر میں بھارتی طالب علم انوج بدوے کے قتل کے سلسلے میں ایک بیس سالہ برطانوی شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جس کو آج پیر کو مانچسڑ کی مقامی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

پولیس نے بیس سالہ کیارن سٹیپلٹون کوگرفتار کیا ہے جس کا تعلق ارڈسال کے علاقے سے بتایا جاتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس قتل کی تحقیقات ابھی بھی جاری ہیں۔

انوج کو گزشتہ پیر کو سیلفرڈ میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ لنكاسٹر یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم انوج اپنے آٹھ دوستوں کے ساتھ سیلفرڈ میں کرسمس کی چھٹیاں گزار رہے تھے کہ سڑک پر اچانک سامنے سے آنے والے دو افراد نے ان بھارتی طلباء سے کچھ لمحات بات چیت کی اور پھر ان میں سے ایک نے انوج بدوے کی كنپٹي پر گولی مار دی۔

اسسٹنٹ چيف کانسٹبل ڈان کوپلے نے بتایا کہ ’یہ ابھی بھی بہت ہی پیچیدہ تفتیش ہے، ہم نے کسی پر مقدمہ درج کیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تفتیش مکمل ہوگئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی عوام سے یہی کہیں گے کہ اس سلسلے میں جسے بھی کوئی اطلاع ہو وہ پولیس تک پہنچائے اور سراغ بتانے والے کے لیے پچاس ہزار کے پونڈ کا نعام ابھی برقرار ہے۔

ادھر انوج بدوے کے قتل کے سلسلے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے برطانوی پولیس کی ایک ٹیم بھارت میں ہے اور پونے شہر میں ان کے والدین سے ملاقات کی ہے۔

پولیس ابھی تک انوج کے قتل کی وجوہات معلوم نہیں کر پائی ہے۔ اطلاعات کے مطابق انوج کے والدین جلد ہی مانچیسٹر آ کر اپنے بیٹے کی لاش لے جائیں کے۔

اسی دوران طلباء پیر کے روز دلّی میں انوج کی یاد میں ایک مارچ کرنے والے ہیں۔

یہ افراد برطانوی سفارتخانے تک ایک ریلی کی شکل میں جائیں گے اور اپنے مطالبات پیش کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق برطانوی ہائي کمیشن سے تین مطالبے کیے جائيں گے۔ پہلا یہ کہ اس بارے میں جلد از جلد انصاف دلایا جائے، دوئم دس لاکھ روپے مقتول کے والدین کو بطور ہرجانہ دیے جائیں اور تیسرے یہ کہ فوری طور پر انوج بدوے کی لاش کو ان کے گھروالوں کے حوالے کی جائے۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ بھی انوج کے والدین کی اس بارے میں مدد کر رہا ہے۔

اسی بارے میں