سفارتکار کے ساتھ ’بدسلوکی‘ پر احتجاج

Image caption بھارت نے اس معاملے پر چینی سفیر کو طلب کیا ہے

بھارت نے چین میں اپنے ایک سفارت کار کے ساتھ بدسلوکی پر سرکاری سطح پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں دلی میں چین کے ڈپٹی چيف آف سٹاف کو طلب کیا ہے اور ان سے بھی اس مسئلے پر بات کی جائے گي۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق بھارتی سفارت کار ایس بال چندرن چین میں اغوا کیےگئے بھارتی تاجروں کے ایک وفد کی رہائی کے لیے بات چيت کر رہے تھے۔

بھارتی حکام کے مطابق بال چندرن ذیابیطس کے مریض ہیں اور انہیں پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی کے دوران کچھ بھی کھانے پینے کو نہیں دیا گيا اور نہ ہی دوائی لینے کی اجازت دی گئي۔

اس وجہ سے وہ بےہوش ہوگئے اور انہیں ہسپتال میں داخل کروانا پڑا۔

چین میں بھارت کے ڈپٹی چیف آف سٹاف راہول چھابڑا نے اس واقعے پر اعتراض کیا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے سفارت کاروں کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ برداشت نہیں کر سکتا ہے۔

دلی میں بھارتی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بال چندرن کی صحت اب درست ہے اور وہ شنگھائی واپس آگئے ہیں۔

چین میں موجود بعض بھارتی نامہ نگاروں کے مطابق بھارتی تاجروں کو رقم کے لین دین کے معاملے پر اغواء کیا گیا تھا اور بھارتی سفارت کار بال چندرن انہیں رہا کروانے کی کوششیں کر رہے تھے۔

شنگھائی کے بھارتی قونصلیٹ میں سیاسی امور سے متعلق سینیئر اہلکار ریوا گنگولی کا کہنا ہے کہ بھارتی تاجر دیپک رہیجا اور شیام سندر اگروال کو رہا کرانے کی کوشش کی جا رہی تھی اور اسی دوران بال چندرن کے ساتھ بدسلوکی کا یہ واقعہ پیش آيا ہے۔

اسی بارے میں