کشمیر:بجلی کے بحران پر احتجاج، ایک ہلاک

Image caption پورے شمالی کشمیر میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا ہے

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں بجلی کی عدم فراہمی پر مظاہرہ کرنے والوں پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے شہری کی ہلاکت کے بعد کشیدگی پھیل گئی ہے۔

فائرنگ کا یہ واقعہ سرینگر کے شمال میں پچھہتر کلومیٹر کے فاصلے پر اُوڑی میں پیش آیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف مظاہرین نے جب اُوڑی کے بونیار علاقہ میں واقع بھارت کی نیشنل ہائیڈل پاور کارپوریشن یا این ایچ پی سی کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا تو وہاں تعینات سنٹر انڈسٹریل سکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کے اہلکاروں نے فائرنگ ک شروع کر دی۔

اس کارروائی میں الطاف احمد سُود نامی انیس سالہ طالب علم ہلاک ہوگیا اور دیگر چار شہری زخمی ہوگئے۔ اس ہلاکت سے پورے شمالی کشمیر میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا۔

اس واقعہ کے فوراً بعد حکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام جائے واردات پر پہنچے اور لوگوں کو یقین دلایا کہ قصورواروں کو سزا دی جائے گی۔

سرکاری ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ سی آئی ایس ایف جموں کشمیر میں تعینات یونیفائیڈ ہیڈکوارٹرز کا حصہ نہیں ہے اور اسے این ایچ پی سی نے اپنی حفاظت کے لیے خود مامور کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے خلاف حکومت نے بھارتی وزارت داخلہ کے یہاں احتجاج درج کیا ہے۔

واضح رہے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف پچھلے کئی ہفتوں سے وادی میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔

اس دوران علیحدگی پسند رہنما میر واعظ عمرفاروق اور وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کے درمیان بھی بیان بازی ہوئی ہے جس کے بعد وزیراعلیٰ نے میر واعظ سے کہا تھا کہ وہ بجلی چوری کے خلاف فتویٰ جاری کریں۔

میرواعظ عمر کہتے ہیں کہ سرکاری دفاتر ، فوج اور نیم فوجی عملہ کے پاس سات سو کروڑ روپے سے زائد رقم بجلی فیس کے طور پر واجب الادا ہے، لیکن حکومت پھر بھی عوام کو قصور وار ٹھہرا کر اپنی ذمہ داریوں سے فرار چاہتی ہے۔

حزب اختلاف پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی کے ترجمان نعیم اختر کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نے بجلی کے بحران کے لیے براہ راست لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرا کر عوامی غم و غصہ میں اضافہ کیاہے۔

پچھلے پچیس سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ بجلی کی عدم فراہمی یا کٹوتی کے خلاف کشمیر میں پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ اُنیس سو چوراسی میں پرانے سرینگر شہر میں بجلی کی عدم فراہمی کیخلاف مظاہرہ کرنے والوں پر پولیس نے فائرنگ کی جس میں چار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں موجود پانی کے وسائل سے بیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، لیکن سرما کے دوران یہاں درکار صرف ڈیڑھ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا نہیں کی جاتی ہے۔

دراصل این ایچ پی سی جموں کشمیر میں کشن گنگا سمیت کم از کم دس بجلی منصوبوں پر کام کررہی ہے جن سے دو ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ سیاسی اور سماجی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑرہا ہے کہ این ایچ پی سی سے یہ منصوبے واپس لئے جائیں۔

اسی بارے میں