زہریلی شراب پینے سے متعدد ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption آندھرا میں ایک خاتون دیسی شراب بناتے ہوئے

بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں زہریلی شراب پینے سے مرنے والے افراد کی تعداد سترہ ہوگئی ہے جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق زہریلی شراب سے متاثرہ کئی افراد کا اب بھی ہسپتال میں علاج چل رہا ہے۔

زہریلی شراب پینے کا یہ واقعہ ضلع کرشنا مائیلاورم میں پیش آيا ہے۔ نئے سال کے مواقع پر لوگوں نے مقامی سطح پر بننے والی شراب پی تھی۔

ضلع کرشنا کے کلکٹر گورو اوپّل کا کہنا ہے کہ ’ابھی تک سترہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور مزید چوبیس کا علاج چل رہا ہے‘۔

علاقے کی تین بستیوں کے لوگوں نے سنیچر کی رات کو شراب پی تھی اور جب ان کی حالت زیادہ خراب ہوئی تو انہیں ہسپتال میں داخل کیا گيا جہاں زیادہ تر اموات اتوار کو ہوئی ہیں۔

ریاستی حکومت نے اس معاملے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور مرنے والے کے اہل خانہ کو دو دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گيا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ دیسی شراب میں میتھائل الکوحل ملا ہوا تھا۔ اطلاعات کے مطابق شراب کے نمونے جانچ کے لیے حیدرآباد لائے گئے ہیں۔

ابھی کچھ روز پہلے ہی بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں بھی دیسی زہریلی شراب پینے کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں تقریباً دو سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

گزشتہ ہفتے ریاست گجرات میں ایک قانون منظور کیا گیا ہے جس کے تحت غیر قانونی شراب بنانے اور اسے فروخت کرنے پر موت کی سزا دی جا سکتی ہے۔گجرات بھارت کی واحد ریاست ہے جہاں شراب پر پابندی ہے۔

ملک کے کئی حصوں میں ایسی دیسی شراب سستی مل جاتی ہے اور اسے پینے والے زیادہ تر غریب دیہاڑي دار مزدور ہوتے ہیں۔ ایسی شراب میں نشہ بڑھانے کے لیے اسے فروخت کرنے والے اس میں میتھائل الكوحل ملا دیتے ہیں جو کہ مہلک ثابت ہوتا ہے۔

اسی بارے میں