’پاکستانی آرمی چیف سے موازنہ نہیں کیا‘

وی کے سنگھ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنرل سنگھ چاہتے ہیں کہ ان کی تاریخ پیدائش دس مئی انیس سو اکیاون تسلیم کی جانی چاہیے

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ملک کے سیکریٹری دفاع سے بات چیت کے دوران انہوں نے شکایتاً اپنا موازنہ پاکستان کی فوج کے سربراہ سے کیا تھا۔

انگریزی روزنامے ہندوستان ٹائمز نے گزشتہ روز یہ یہ دعوٰی کیا تھا کہ جنرل سنگھ نے سیکرٹری دفاع ششی کانت شرما سے ملاقات کے دوران بطور شکوہ یہ کہا تھا کہ وزارت دفاع ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک کر رہی ہے جیسے وہ بھارت کی نہیں پاکستان کی فوج کے سربراہ ہوں۔

ششی کانت شرما جنرل سنگھ سے ان کی پیدائش کے سال سے متعلق تنازع کے سلسلے میں ملنے گئے تھے۔

لیکن فوج نے ایک بیان جاری کرکے اس بات سے انکار کیا ہے کہ جنرل سنگھ نے سیکریٹری دفاع سے بات چیت کے دوران ایسا کوئی بھی موازنہ کیا تھا۔

فوج کے ہیڈکواٹر کا کہنا ہے کہ یہ خبر غلط ہے اور ’سنسنی’ پیدا کرنے کے لیے چھاپی گئی ہے۔

جنرل سنگھ کا دعوٰی ہے کہ ان کی پیدائش دس مئی انیس سو اکیاون کو ہوئی تھی لیکن فوج کے زیادہ تر دستاویزات میں ان کی پیدائش کا سال اکیاون کے بجائے انیس سو پچاس درج ہے۔

جنرل سنگھ چاہتے ہیں کہ ان کی تاریخ پیدائش دس مئی انیس سو اکیاون تسلیم کی جانی چاہیے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ امسال مئی کے بجائے آئندہ برس مئی میں ریٹائر ہوں گے۔ انہوں نے اپنی تاریخ پیدائش کی درستی کے لیے وزارت دفاع کو ایک باضابطہ درخواست بھی دی تھی۔

یہ تنازع کئی مہینوں سے سرخیوں میں ہے لیکن گزشتہ ماہ وزارت دفاع نے ان کی درخواست مسترد کردی تھی۔

اخبار کے مطابق سیکرٹری دفاع اکیس دسمبر کو جنرل سنگھ سے یہ معلوم کرنے کے لیے ملنے گئے تھے کہ اس تنازع کے سلسلے میں ان کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ اسی ملاقات کے دوران جنرل سنگھ نے مبینہ طور پر کہا کہ ’وزارت دفاع ان کے ساتھ ایسا سلوک کر رہی ہے جیسے وہ پاکستان کی فوج کے سربراہ ہوں‘۔

اخبار نے سرکردہ سرکاری ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ جنرل سنگھ نے (ششی کانت شرما پر) واضح کیا کہ انہیں صرف اپنی عزت اور وقار کی فکر ہے اور تنازع کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ درخواست منظور کیے جانے کی صورت میں وہ مزید ایک سال فوج کے سربراہ رہ سکیں گے۔

اس ملاقات کے تقریباً ایک ہفتے بعد وزیر دفاع اے کے انٹونی نے جنرل سنگھ کی درخواست مسترد کر دی۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے فوج کے نئے سربراہ کی تلاش کی کارروائی شروع کر دی ہے۔

لیکن یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ جنرل سنگھ سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں۔ اخبار نے یہ نامعلوم اعلٰی سرکاری ذرائع کے حوالے سے شائع کی ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اگر جنرل سنگھ نے اس طرح کا غیر معمولی بیان دیا تھا تو ذرائع نے اسے عام کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی۔

اخبار کا کہنا ہے کہ جنرل سنگھ نے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی سے بھی ملاقات کی تھی جنہوں نے انہیں اس معاملے کو عدالت میں نہ لے جانے کا مشورہ دیا۔ پرنب مکھرجی وفاقی حکومت میں نمبر دو پر مانے جاتے ہیں۔

اخبار کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل سنگھ کے خیال میں انہیں ’ایک ولین کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔‘

ادھر اخبار انڈین ایکسپریس کا کہنا ہے کہ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے جنرل سنگھ کی حمایت میں وزیر دفاع کو ایک سخت خط تحریر کیا ہے۔

اخبار کے مطابق امریندر سنگھ نے فوج کے سابق سربراہ جنرل دیپک کپور پر سخت تنقید کرتے ہوئے اپنے خط میں لکھا ہے کہ یہ تنازع کچھ مخصوص لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کھڑا کیا گیا ہے اور اس میں سیاست کا بڑا عمل دخل ہے۔ یہ خط بھی وزیر دفاع کے فیصلے سے قبل بھیجا گیا تھا۔

اسی بارے میں