کشمیر: لوڈشیڈنگ کے خلاف ہڑتال، زندگی مفلوج

کشمیر میں ہڑتال کی ایک فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہڑتال سے عام زندگی معطل ہوگئی ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بجلی میں کٹوتی اور اس پر مظاہرہ کرنے والوں پر فائرنگ کےخلاف ہڑتال کی جارہی ہے۔

یہ ہڑتال تاجر انجمنوں کی کال پر کشمیر کے تمام اضلاع میں کی جارہی ہے۔

گزشتہ پیر کو شمالی قصبہ اُوڑی میں حکومت ہند کے ایک پاور پروجیکٹ پر تعینات گارڈز کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کے بعد مختلف تاجر انجمنوں کے اتحاد کشمیر اکنامِک الائنس نے احتجاجی ہڑتال کی کال تھی۔

بائیس سالہ مسلح شورش میں یہ پہلا موقع ہے کہ بجلی کی عدم فراہمی پر حکومت مخالف ہڑتال کی گئی ہے۔

سوموار کو بجلی کی عدم فراہمی کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر فائرنگ کا یہ واقعہ سرینگر کے شمال میں پچہتر کلومیٹر دُور اُوڑی میں پیش آیا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف مظاہرین نے جب اُوڑی کے بونیار علاقہ میں واقعہ بھارت کی نیشنل ہائیڈل پاور کارپوریشن یا این ایچ پی سی کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا تو وہاں تعینات سینٹر انڈسٹریل سیکورٹی فورس ( سی آئی ایس ایف) کے اہلکاروں نے فائرنگ کی، جس میں انیس سالہ الطاف احمد سُود نامی طالب علم ہلاک ہوگیا اور دیگر چار شہری زخمی ہوگئے۔

ہڑتال سے عام زندگی معطل ہوگئی اور تعلیمی و کاروباری سرگرمیاں متاثر ہیں۔ اکانومِک الائنس کے صدر محمد یٰسین خان نے بتایا: 'ہم بجلی کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں اور ہم پر گولیاں برسائی جاتی ہیں۔ یہ تو جنگل راج ہے۔ '

قابل ذکر ہے بارہ مولہ کے اوڑی قصبہ میں پچھلے پانچ روز سے ہڑتال جاری ہے۔ تاہم جمعہ کے روز تمام ضلعوں میں احتجاج کے طور ہڑتال کی گئ۔

بغیر اعلان کے بجلی میں کٹوتی کے خلاف پچھلے کئی ہفتوں سے وادی میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ اور یہاں کے سماجی و سیاسی حلقے حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ اس نے وافر وسائل ہونے کے باوجود بجلی پیدا کرنے کے حقوق این ایچ پی سی کو تفویض کئے ہیں۔

اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ این ایچ پی سی سے بجلی کے سارے منصوبے واپس لئے جائیں۔

اس مطالبہ میں علیحدگی پسند اور ہندنواز سیاسی حلقوں مین اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور دونوں یکساں شدت کے ساتھ یہ مطالبہ کرتے ہیں۔

حریت کانفرنس (ع) کے رہنما میرواعظ عمر کہتے ہیں کہ سرکاری دفاتر، فوج اور نیم فوجی عملہ کے پاس سات سو کروڑ روپے سے زائد رقم بجلی فیس کے طور پر واجب الادا ہے، لیکن حکومت پھر بھی عوام کو قصور وار ٹھہرا کر اپنی ذمہ داریوں سے فرار چاہتی ہے۔

حزب اختلاف پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی کے ترجمان ںعیم اختر کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نے بجلی کے بحران کے لئے براہ راست لوگوں کو ذمہ ٹھہرا کر عوامی غم و غصہ میں اضافہ کیاہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اُنیس سو چوراسی میں پرانے سرینگر شہر میں بجلی کی عدم فراہمی کیخلاف مظاہرہ کرنے والوں پر پولیس نے فائرنگ کی جس میں چار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں